کیا حضرتِ خضر علیہ السلام خشکی وتر دونوں کے مالک ہیں؟

مسئلہ :-  زید کہتا ہے کہ حضرتِ خضر علی نبینا علیہ الصلوٰۃ والسلام حضورﷺکے تصرفات سے خشک و تر دونوں کے مالک ہیں اور عمر کہتا ہے کہ حضرتِ خضر علی نبینا علیہ الصلوٰۃ والسلام صرف خشک کے مالک ہیں آیا ان دونوںیں کسکا قول درست ہے؟ 
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
زید کا قول درست ہے یعنی حضرتِ خضر علیہ السلام حضور ﷺ کی نیابت سے خشک وتر دونوں کے مالک ہیں، 
جیسا کہ محقق جلیل حضور اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی حنفی متوفی ۱۳۴۰ ھ فرماتے ہیں :
مالک بحر بر ہرخشک و تر اللّٰه عزوجل ہے، اور اس کی عطاء سے حضور ﷺ، حضور ﷺکی نیابت سے حضرتِ خضر علی نبینا علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تصرفات خشکی اور دریا دونوں میں ہیں
(فتاویٰ رضویہ مترجم جلد ۲۶،صفحہ،۴۳۶،) 

وﷲ تعالیٰ ورسولہٗ ﷺاعلم بالصواب-
۲۳/ جُمادی الاول شریف ۱۴۴۴ ھجری
۱۸/ دسمبر ۲۰۲۲ عیسوی بروز اتوار
Previous Post Next Post