اذان کا جواب کب اور کیسے دینا چاہیے؟

مسئلہ :- اذان‌کے کلمات کا جواب کب  دینا چاہیے مؤذن کو اذان‌کے کلمات کہتے وقت یااذان‌کے  کلمات کہنے کے بعد؟ 
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
مؤذن جب اذان کے کلمات کہہ لے اس کے بعد  جواب دینا چاہیے کیونکہ اذان خاموشی سے سننے کا تاہم  مؤذن جب تک کلمات کہہ نہ لے ، 
 بہار شریعت میں ہے: 
جب اَذان سُنے، تو جواب دینے کا حکم ہے، یعنی مؤذن جو کلمہ کہے، اس کے بعد سُننے والا بھی وہی کلمہ کہے، مگر  حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃ حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ  کے جواب میں   لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ  کہے اور بہتر یہ ہے کہ دونوں  کہے، بلکہ اتنا لفظ اورملا لے   مَا شَاءَ اللّٰہُ کَانَ وَمَا لَمْ یَشَأْ لَمْ یَکُنْ ۔ تو سچا اور نیکو کار اور تو نے حق کہا، 
(حصہ سوم صفحہ ۴۷۶ اذان کا بیان) 
 اور حدیث شریف میں ہے حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے روایت ہے کہ انہوں نے نبیﷺ کو سنا ،
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا
إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ،
 جب تم مؤذن  اذان کہتے ہوئے  سنو تو اسی طرح کہو جیسے وہ کہتا ہے،(یعنی اذان والے کلمات اسکے پیچھے دہراؤ) 
(رواہ مسلم وابو داؤد)  
وﷲ سبحانہٗ تعالیٰ الاعلٰی ورسولہٗ ﷺاعلم بالصواب-
۲۲/ جمادی الاول شریف ۱۴۴۴ھجری
۱۷/ دسمبر ۲۰۲۲ عیسوی بروز شنبہ ـــــــ سنیچر
Previous Post Next Post