تعلیم قرآن امامت واذان کی اجرت پر فتویٰ جواز کا ہے عدم جواز؟

مسئلہ :- اذان وامامت تعلیم قرآن  اجرت لینے پر مفتی بہ قول کیا ہے؟ 
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
مفتی بہ قول یہ ہے جائز ہے 
در مختار مع شامی جلد پنجم صفحہ ۴۶ مطبوعہ ایم ایچ سعید میں ہے : 
ویفتی الیوم بصحتہا ای (الاجارة) علی تعلیم القرآن والفقہ والامامة والاذان، اھ۔
اور بہار شریعت حصہ دہم صفحہ ۵۱۰ میں ہے : 
 تعلیم قرآن و علم دین اور اذان و امامت پر چونکہ بنا بر قول مفتی بہ اُجرت لینا جائز ہے اس میں   شرکت عمل بھی ہوسکتی ہے، 
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
۲۴ جمادی الاولیٰ ۱۴۴۴ھجری
۱۹ دسمبر ۲۰۲۲ عیسوی دوشنبہ
Previous Post Next Post