مسئلہ؛- مَارَآہُ الْمُسْلِمُوْنَ حَسَناً فَھُوَ عِنْدَ اللّٰہِ حَسَنٌ کیا یہ حدیث ہے یا کسی بزرگ کا قول ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
جی ہاں یہ حدیث ہے، اور یہ حدیث المسند الامام احمد بن حنبل ، مسند عبداﷲ بن مسعود جلد دوم صفحہ ۱۶ میں ہے :
مَارَآہُ الْمُسْلِمُوْنَ حَسَناً فَھُوَ عِنْدَ اللّٰہِ حَسَنٌ
یعنی وہ چیز جس کو مسلمان( اہلِ علم و اہل تقویٰ ) اچھا سمجھیں وہ اﷲ کے نزدیک بھی اچھی ہے۔
یہ حدیث حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے جس کو حضرت امام احمد رحمہ اللّٰہ تعالٰی نے اپنی مسند میں روایت کی ہے بعض محدثین اسے مرفوع کہتے ہیں اور بعض اس کو موقوف کہتے ہیں -عرف و عادت کی تعریف علامہ ابن عابدین علیہ الرحمہ اپنی کتاب’’ شرح عقود رسم المفتی المنظوم‘‘ میں فرماتے ہیں : قَالَ فِی ’’ الْمُسْتَصْفٰی ‘‘ :أَلْعَادَۃُ مَااسْتقَرَّفِی النُّفُوْسِ مِنْ جِھَۃِ الْعُقُوْلِ وَتَلَقَّتْہُ الطِّبَاعُ السَّلِیْمَۃُ بِالْقُبُوْلِ وَفِیْ ’’ شَرْحِ التَّحْرِیْرِ ‘‘ أَلْعَادَۃُ ھِیَ الأمْرُالْمُتَکَرِّرُمِنْ غَیْرِعِلاقَۃِ عَقْلَیَّۃٍ
اور’’ الأشباہ والنظائر ‘‘میں علامہ زین الدین ابن نجیم الحنفی المصری فرماتے ہیں : وذکرالامام الھندی فی ’’ شرح المغنی ‘‘ أَلْعَادَۃُ عِبَارَۃٌ عَمَّا یَسْتَقِرُّفِی النُّفُوْسِ مِنَ الأمُوْرِالْمُتَکَرَّرَۃِ الْمَقْبُوْلَۃِ عِنْدَالطِّبَاعِ السَّلِیْمَۃِ " اھ
(بہار شریعت حصہ ۱۹ قاعدہ نمبر ۲۳)
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
۵ جمادی الثانی ۱۴۴۴ ھجری
۲۹ دسمبر ۲۰۲۲ عیسوی پنجشنبہ
Tags:
متفرقات