مسئلہ :- کیا ایسی کوئی روایت ہے؟ کہ اگر کوئی کہے کہ بارش ستاروں کے سبب ہوتی ہے تو اس نے کفر کیا،
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
جی ہاں ایسی روایت ہے کہ جس نے کہا بارش ستاروں کے سبب ہوتی ہے اس نے کفر کیا
کیونکہ بارش الله کے فضل و کرم سے ہوتی ہے ناکہ ستاروں کے سبب
جیسا کہ مسلم شریف جلد اول صفحہ ۱۰۸ کتاب الایمان میں ہے :
حدیث شریف نمبر:- ۸۲۲ یَحیَ بنُ یَحیَ قَالَ قَرأتُ عَلٰی مَالِکٍ عَن صَالِحِ بنِ کَیسَانَ عَن عُبَیدِاللّٰهِ بنِ عَبدِاللّٰهِ بنِ عُتبَۃَ عَن زَیدٍ بنِ خَلِدِالجُھَنّیّ ِ قَالَ صَلّٰی بِنَا رَسُولُ ﷲﷺ صَلٰوۃَ الصُّبحِ بِالحُدَیبِیَّۃِ اِترِ سَمآءٍ کَانَت مِنَ الَّیلِ فَلَمَّاانْصَرَفَ اَقبَلَ عَلَی النَّاسِ فَقَالَ ھَل تَدرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّکُم قَالُوأ ﷲ وَرَسُولُہٗ ﷺاَعلَمُ قَالَ قَالَ اَصبَحَ مِن عِبَادِی مُؤمِنٌ بِی وَ کَافِرٌ فَاَمَّا مَن قَالَ مُطِرنَا بِفَضلِ ﷲ وَرَحمَتِهٖ فَذَالِکَ مُؤمِنٌ بِی کَافِرٌ بِالکَوکَبِ فَاَمَّا مَن قَالَ مُطِرنَا بِنَوءِ کَذَا وَ کَذَا فَذَالِکَ کَافِرٌ بِی مُؤمِنٌ بِالکَوکَبِ ترجمه:______حضرتِ زید بن خالد جہنی رضی ﷲ عنہ بیانکرتے ہیں کہ رسول ﷲﷺ نے حدیبیہ میں ہمیں صبح کی نماز پڑھائی اس وقت رات کی بارش کا اثر باقی تھا نماز سے فارغ ہوکر آپﷺ حاضرین کی متوجہ ہوۓ کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا: صحابہ کرام رضوان ﷲعنہم اجمعین نے عرض کیا ﷲاور اسکے رسول ﷺہی خوب جانتے ہیں آپنےﷺنے فرمایا کہ ﷲ تعالیٰ نے فرمایا میرے بندوں میں سے بعض کی صبح ایمان پر اور بعض کی صبح کفر پر ہوئی ہے' جس شخص نے کہا کہ ہم جدا کی فضل و کرم سے بارش ہوئی اسنےمجھ پر ایمان رکھا اور ستاروں کا کفر کیا اور جس نے کہا فلاں ستاروں کی تأثیر سے بارش ہوئی اس نے میرا کفر کیا اور ستاروں پر ایمان رکھا
وﷲ تعالیٰ الاعلٰی ورسولہٗ ﷺاعلم بالصواب»ــــــــ
۴/ جُمادی الآخر شریف ۱۴۴۴ ھجری
۲۸/دسمبر ۲۰۲۲عیسوی بروز بدھ
Tags:
عقائد کا بیان