کافر مقروض نے شراب بیچ کر مسلمان کا قرض ادا کیا تو وہ مسلمان کے لیے جائز ہے یا نہیں؟

مسئلہ:- شراب کے دکان والے مقروض کافرنے شراب بیچ کر مسلمان کے قرض کو ادا کیا آیا یہ  وہ مسلمان کے لیے جائز ہے یا نہیں؟ 
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
 جائز ہے  کیونکہ کافر اگر مسلمان کا مقروض ہے اور کافر نے شراب بیچ کر قرض ادا کیا تو مسلمان کے لیے جائز ہے، 
  جیسا کہ حضور صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی حنفی متوفی ۱۳۶۷ لکھتے ہیں: 
مسلمان کا کافر پر دَین ہے، اس نے شراب بیچ کر اس کے ثمن سے دَین ادا کیا۔ مسلم کے علم میں   ہے کہ یہ روپیہ شراب کا ثمن ہے، اس کا لینا جائز ہے کیونکہ کافر کا کافر کے ہاتھ شراب بیچنا جائز ہے اور ثمن میں   جو روپیہ اسے ملا، وہ جائز ہے، لہٰذا مسلم اپنے دَین میں   لے سکتا ہے، 
(بہار شریعت حصہ ۱۶ صفحہ ۴۸۱ خرید و فروخت کا بیان)  
والله تعالیٰ اعلم
۱۴ جمادی الاولیٰ ۱۴۴۴ھجری
۹ دسمبر ۲۰۲۲ عیسوی جمعہ
Previous Post Next Post