کس دور میں دوران نماز سلام کا جواب دیا جاتا تھا؟

مسئلہ:- زید کہتا ہے کہ  حبشہ کے حجرت سے قبل، دوران نماز سلام کرنا درست تھا اور بعد میں رسولِ کائناتﷺ نے منع فرما دیا اور عمر کہتا ہے کہ ہجرت حبشہ سے پہلے بھی دوران نماز سلام کرنا منع تھا آیا ان‌ دونوں میں کس قول درست ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
زید کا قول درست ہے  حبشہ کے ہجرت سے قبل دوران نماز سلام کا جواب درست تھا بعد میں رسول کریم ﷺ نے منع فرمادیا
جیسا کہ حدیث شریف میں ہے عن عبدﷲ بن  مسعود رضی ﷲ عنہ قال کنا نسلم علی النبی ﷺ وھو فی الصلوٰۃ قبل ان ناتی ارض الحبشۃ فیرد علینا فلما رجعنا من ارض الحبشۃ اتیتہ فوجدتہ یصلی فسلم فسلمت علیہ فلم‌ یرد علی حتیٰ اذا قضیٰ الی صلوٰتہ قال ان ﷲ یحدث من امرہٖ ما یشاء وان مما احدث ان لا تتکلموا فی الصلوٰۃ فرد  علی السلام وقال انما الصلوٰۃ لقرآءۃ القرآن وذکرﷲ فاذا کنت فیھا فلیکن ذالک شانک(رواہُ ابوداؤد)
ترجمه:»حضرت عبدﷲ ابن مسعود رضی ﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہجرت حبشہ سے پہلے ہم دوران نماز حضور ﷺکو سلام کرتے تو حضور ﷺ اس کا جواب عنایت فرماتے تھے لیکن جب ہم حبشہ سے واپس آۓ تو ہم‌نے سرکار ﷺکو مصروف نماز پایا اور حسبِ معمول کلام‌کیا تو آپنے‌جواب‌نہ دیا اور نماز کو مکمل کرکے فرمایا بے شک ﷲ تعالیٰ اپنی مرضی کے مطابق بندوں پر نىۓ احکام نازل کرتا ہے اب حکم یہ ہے کہ نماز میں باتیں نہ کی جائیں اس کے بعد آپ نے‌سلام‌کا جواب دے کر فرمایا کہ نماز صرف تلاوتِ قرآن اور ذکر الٰہی کے لیۓ ہے پس جب تم‌حالت نماز میں ہو تو صرف اسی حال میں رہو(ابو داؤد شریف)
(مشکوٰۃ شریف مترجم، جلد، ۱، صفحہ،۲۱۰،دورانِ نماز جائز اور ناجائز امور کا بیان)
وﷲ سبحانہٗ تعالیٰ الاعلٰی ورسولہٗ ﷺاعلم بالصواب-
۲۷/ جمادی الاول شریف ۱۴۴۴ ھجری 
۲۲/ دسمبر ۲۰۲۲ عیسوی بروز جمعرات
Previous Post Next Post