کیا ایسی کوئی روایت ہے کہ حلالہ کرنے کروانے والوں پر لعنت ہو؟

مسئلہ :- کیا یہ روایت درست  ہے کہ رسولِ کائنات ﷺنے حلالہ  کرنے والے اور جسکے لیۓ حلالہ کیا گیا ان (دونوں) پر لعنت فرمائی ہے کیا یہ روایت درست ہے؟ 
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
یہ روایت درست ہے اور حلالہ میں ایجاب وقبول کی شرط لگانے والوں پر حضور ﷺ نے لعنت  فرمائی ہے  
جیسا کہ حدیث شریف میں ہے حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَامِرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْحَارِثِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ إِسْمَاعِيلُ:‏‏‏‏ وَأُرَاهُ قَدْ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَعَنَ اللَّهُ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ. حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے فرمایا  حلالہ کرنے والے اور کرانے والے دونوں پر اللہ نے لعنت کی ہے. (سنن ابوداؤد کتاب  النکاح  حلالہ کا بیان حدیث نمبر ۲۰۷۶)
فقیہ ملت مفی جلال الدین امجدی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ حدیث شریف میں حلالہ کرنے والے اور حلالہ کرانے والے پر جو لعنت آئی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ایجاب و قبول میں حلالہ کی شرط لگائی جائے - اور اگر ایجاب وقبول میں حلالہ کی شرط نہ لگائی جائے تو کوئی قباحت نہیں - بلکہ اگر بھلائی کی نیت ہو تو مستحق اجر ہے -"
در مختار مع ردالمحتار ج ۲ ص ۵۵۵ میں ہے 
 لعن المحلل والمحلل لہ بشرط التحلیل کتزوجتک علی ان احللک اما اذا اضمر ذالک لا یکرہ و کان الرجل ما جورالقصد الاصلاح -
یعنی حلالہ کرنے والے اور حلالہ کرانے والے پر  اس صورت میں لعنت کی گئی ہے جبکہ ایجاب وقبول میں حلالہ کی شرط لگائی جائے - مثلاً مرد عورت سے یوں کہے کہ میں نے تجھ سے نکاح کیا اس بات پر کہ تو شوہر اول کے لئے حلال ہو جائے -لیکن اگر حلالہ کی نیت دل میں ہو ( ایجاب وقبول میں حلالہ کی شرط کا ذکر نہ آئے ) تو اس میں کوئی قباحت و کراہت نہیں - بلکہ اگر اصلاح کی نیت ہو تو موجب اجر ہے 
انوار الحدیث صفحہ ۲۴۳
وﷲ سبحانہٗ تعالیٰ الاعلٰی ورسولہٗ ﷺاعلم بالصواب- 
۲۶/ جُمادی الاول شریف ۱۴۴۴ ھجری
۲۱/ دسمبر ۲۰۲۲ عیسوی بروز بدھ
Previous Post Next Post