مسئلہ:- زید افیون اور گانجہ بیچتا ہے تو زید زید سے چندہ لیکر مسجد میں لگانا جائز ہے یا نہیں نیز زید کا افیون اور گانجہ بیجنا جائز ہے یا نہیں؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
اگر زید مال حلال سے چندہ تو لے کر مسجد میں لگانا جائز ہے اور زید کا افیون اور گانجہ نشہ بازوں کے علاوہ بیجنا جائز ہے،
جیسا کہ حضور فقیہ ملت مفتی جلال الدین امجدی حنفی متوفی ۱۴۲۲ ھ فتاویٰ فیض الرسول جلد دوم صفحہ ۳۲۱ میں لکھتے ہیں : افیون اور گانجہ کی کاشت کرنے والے اگر چندہ مال حلال سے دیں تو حکم جواز ظاہر ہے اور افیون وغیرہ کو فروخت کرکے اس میں سے دیں تو بھی حکم جواز کا ہے ان کی صحیح ہے البتہ نشو بازوں کے ہاتھ بیچنا مکروہ و ناجائز ہے: لان المعصیۃ تقوم بعینہٖ وکل ماکان کذالک کرہ بیعہ کذا فی التنویر ‚ اور تنویر الابصار و درمختار میں ہے:
صح بیع غیرالخمر مما مرو مفادۃ صحۃ بیع والحشیشۃ والافیون قلت وقد سئل ابن نجیم عن بیع الحشیشۃ ھل یجوز فکتب لا یجوز فیحمل علی عنمرادہ بعدم الجواز عدم الحل‚ ردالمختار میں ہے:
(قوله صح بیع غیرالخمر) ای عنده خلافا لھما فی البیع والضمان لکن الفتوی لا قوله فی البیع اسی میں ہے:ثم ان البیع ان صح لکنه یکرہ کما فی الغای ۱ھ
وﷲ سبحانہٗ تعالیٰ ورسولہٗ ﷺاعلم بالصواب
۸/جُمادی الاول شریف ۱۴۴۴ھجری
۴/دسمبر ۲۰۲۲عیسوی بروز اتوار
Tags:
مسجد کا بیان