مسىٔلہ:ـــــــــــ»رسولِ اکرمﷺکتنے مد کے مقدار پانی سے وضو اور کتنے صاع کے مقدار پانی سے غسل فرماتے تھے؟
بِسمِ اللّٰهِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیمْ
الجواب بعون الملک الوھاب۰ـــــــــ
ہم سب کے آقا و داتا رسولِ ہاشمی علٰی ذی وقار، بی بی آمنہ رضی ﷲ عنہا کے لال حضرت عبداللّٰه رضی اللّٰه عنہ کے دُرِّ یتیم ہم مریضوں کے طبیب ہم غریبوں کے آقا شہنشاہ مدینہ سید العرب والعجم رحمۃ للعالمین راحت العاشقین مرادالمشتاقینشمس العارفین احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ ایک مد پانی کے ذریعے وضو اور ایک صاع پانی کے ذریعے غسل فرمالیتے تھے جیساکہ حدیث شریف سے ثابت ہے اور روز روشن کی طرح عیاں ہے جیساکہ صاحب ابن ماجہ حدیث شریف نقل فرماتے ہیں:
حدیث نمبر۷۶۲:- حَدَّثنَا اَبُوبَکرِبنُ اَبِی شَیبَۃَ حَدَّثنَا اِسمٰعیلُ بنُ اِبراھیمَ عَن اَبِی رَیحَانَۃَ عَن سَفِینَۃَ قَالَ کَانَ رَسُوْلُﷲﷺ یَتَوَضَأُ بِالمُّدّ ِ وَیَغتَسِلُ بِالصَاعِ
ترجمه:ــــــــــحضرتِ سفینہ رضی ﷲ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ ایک مُد کے ذریعے وضو فرما لیتے تھے اور ایک صاع پانی کے ذریعے غسل فرمالیتے تھے
خلاصه:ـــــــــــ مُد ایک پیمانے کا نام ہے جسمیں تقریباً ایک سِیر اناج آتا ہے اور صاع بھی پیمانہ کا نام ہے جسمیں تقریباً ۴/چار مُد(یعنی چار سِیر صاع کے قریب اناج آتا ہے) اور یہاں پر مُد اور صاع سے پَیمانہ مُراد نہیں ہے بلکہ وزنمراد ہے یعنی رسول ﷲﷺ ۱/ایک سِیر پانی سے وضو فرماتے تھے اور ۴/چار سِیر اور زیادہ سے زیادہ ۵/پانچ سِیر غسل پر صرف فرماتے تھے لہٰذا مناسب یہ ہے کہ تقریباً ایک سِیر پانی سے وضو اور تقریباً ۴/چار سِیر پانی سے غسل کیا جائے لیکن اتنیبات سمجھ لینی چاہىۓ کہ وضو اور غسل کے لیۓ پانی کی یہ مقدار اور وزن واجب کے درجہ میں نہیں ہے بلکہ سُنّت ہے کہ وضو اور غسل کے لیۓ پانی اس مقدار سے کم نہ ہو اور آپﷺکے وضو کے پانیکی مقدار بعض روایتوں میں دو تہائی مد اور بعض روایتوں میں آدھا منقول ہے لہٰذا اس حدیث صحیح البخاری اور مسلم کا محل یہ قرار دیا جاۓگا کہ آپﷺاکثرو بیشتر ایک ہی مُد سے وضو فرماتے تھے اور کبھی کبھی اس سے کممقدار میں بھی وضو فرمالیتے تھے سیسا کہ بعض روایتوں میں منقول ہے_
(شرح سنن ابن ماجہ شریف، جلد،۱،صفحہ،۶۱۰،کتاب الطہارہ)
وﷲ تعالیٰ الاعلٰی ورسولہٗ ﷺاعلم بالصواب—
۱/جُمادی الآخر شریف ۱۴۴۴ ھجری
۲۵/ دسمبر ۲۰۲۲ عیسوی بروز اتوار
Tags:
طہارت کا بیان