پیاز میں لیمو نچوڑ کر کھا کر فوراً مسجد میں جاکر نماز پڑھنا کیسا ہے؟

مسئلہ :-  زید افطار کے وقت پیاز کاٹ کر اور اسمیں لیمو نچوڑ کر وقتِ افطار کھاتا ہے اور منھ کی بدبو زائل ہونے سے پہلے مسجد میں جاکر نماز بھی پڑھتا ہے تو زید کا اس طرح جانا کیسا ہے اور جو مقتدی زید کو نہیں روکتے ہیں انکے بارے میں کیا حکم ہے؟ 
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
  صورت مستفسرہ  میں زید خود گناہ گار ہوگا اور جو مسلمان زید کو نہیں روکتے وہ بھی گناہ گار ہونگے،  کیونکہ پیاز میں لیمو نچوڑنے سے منھ کی بدبو زائل نہیں ہوتی ہے اور، مسجد میں اس حالت میں جانا کہ منھ میں بدبو ہو جائز نہیں ہے،
  جیسا کہ فتاویٰ فیض الرسول جلد دوم صفحہ ۳۰۹ میں ہے 
  لیمو ڈالنے سے پیاز کی بو پورے طور زائل نہیں ہوتی جسکا تجربہ سونگھ کر کیا جاسکتا ہے لہٰذا جب تک کہ اس کی بو کامل طور پر ختم‌نہ ہو جاۓ اسے کھا کر منھ کی بو دور ہونے سے پہلے مسجد میں جانا‌جائز نہیں حدیث شریف میں ہے:
من اکلھا فلا یقر بن مسجدنا یعنی جو شخص کچی پیاز یا لہسن کھاۓ تو ان کی بو دور ہونے سے پہلے ہماری مسجد کے قریب ہرگز نہ آۓ(ابو داؤد شریف)
جو شخص کچی پیاز کھاکر بو دور ہونے سے پہلے مسجد میں جاۓ وہ گناہگار ہے مسلمانوں کو چاہیۓ کہ ایک شخص کو روکیں ورنہ وہ بھی گناہ گار ہونگے ، 
وﷲ سبحانہٗ تعالیٰ الاعلٰی ورسولہٗ ﷺاعلم بالصواب 
 ۲۰/ جمادی الاول شریف ۱۴۴۴ ھجری
۱۵/ دسمبر ۲۰۲۲عیسوی بروز جمعرات
Previous Post Next Post