مسئلہ :- رسولِ کریمﷺ نے اپنی حیات ظاہری میں کوئی نامزد خلیفہ کیوںنہیں مقرر فرمایا تھا ؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
اس لیے نہیں فرمایا کہ مقرر کردہ خلیفہ کی لوگ نافرمانی کرتے تو عذاب الٰہی نازل ہوتا،
جیسا کہ تاریخ الخلفاء صفحہ ۲۱ میں ہے :بزار رحمہ اللّٰه علیہ اپنی مسند میں عبداللّٰه بن وضاح کوفے رحمۃ اللّٰه علیہ سے اور یحییٰ بن یمانی رحمۃ اللّٰه علیہ سے ابو یقظان سے وہ ابو وائل سے اور وہ حضرتِ حذیفہ رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں: کہ صحابۂ کرام رضی ﷲ عنہم اجمعین نے عرض کیا اے اللّٰه کے رسول ﷺ آپ ہم پر کسی کو خلیفہ کیوں مقرر نہیں فرماتے؟ توآپﷺنے فرمایا کہ اگر تم پر کسی کو خلیفہ مقرر کردوں اور تم میرے مقرر کردہ خلیفہ کی نافرمانی کرو تو تم پر عذابِ الٰہی نازل ہوگا اس حدیث شریف کو حاکمنے اپنی مستدرک میں نقل کیا ہے(روایت کیا ہے) مگر اس کے راویوں سے ابو یقظان (رحمۃ اللّٰه علیہ) ضعیف راوی ہیں-
وﷲ سبحانہٗ تعالیٰ الاعلٰی ورسولہٗ ﷺاعلم بالصواب
۱۹/ جُمادی الاول شریف ۱۴۴۴ ھجری
۱۴/ دسمبر ۲۰۲۲ عیسوی بروز بدھ
Tags:
متفرقات