مسئلہ:- کیا ام المؤمنین حضرتِ خدیجہ الکبریٰ رضی ﷲ عنہا کے جنازہ کی نماز پڑھی گئی اور اگر پڑھی گئی ہے تو پیش امام کون تھے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
حضرتِ خدیجۃ الکبریٰ ضی الله عنہا کی نماز جنازہ نہیں پڑھی گئی کہ اوس وقت امت محمدیہ میں نمازِ جنازہ کی ابتدا نہ ہوئی تھی
کما الطحطاوي علی المراقي ۱/۵۸۰)
قال الواقدي لم تکن شرعت (صلاة الجنازة) یوم مات خدیجة انتہی، قیل ہي من خصائص ہذہ الأمة
اور محقق جلیل حضور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی متوفی ۱۳۴۰ ھ فرماتے ہیں : فی الواقع کتب سیر میں علماء نے یہی لکھا ہے کہ ام المومنین حضرتِ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے جنازہ مبارکہ کی نماز نہیں ہوئی کہ اس وقت تک یہ نماز ہوئی ہی نہ تھی اس کے بعد حکم ہوا:
فی الواقع بحث سیرمیں علماء نے بھی لکھا ہے کہ ام المؤمنین حضرتِ خدیجہ الکبریٰ رضی ﷲ تعالٰی عنہا کے جنازہ مبارکہ کی نماز نہ ہوئی اس وقت یہ نماز ہوئی ہی نہ تھی اس کے بعد اس کا حکم ہواہے زرقانی علی المواہب میں ہے فی رمضان بعدالبعث بعشر سنین ماتت الصدیقہ الطاھرۃخدیجۃ رضی ﷲ تعالٰی عنہا ودفنت بالجمون ونزلﷺ حضرتہا ولم یکن یومئذالصلاۃعلی الجنازۃ
(فتاویٰ رضویہ شریف قدیم،جلد،۴،صفحہ،۵۷،باب الجنازہ)
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
۲۰ ربیع الثانی ۱۴۴۴ ھجری
۱۶ نومبر ۲۰۲۲ عیسوی بدھ
Tags:
جنازہ کا بیان