مسئلہ:-نماز میں امام سے سہو ہوا لیکن بکر اس وقت نماز میں شامل نہیں تھا سہو کے بعد شامل ہوا تو کیا بکر کو بھی امام کے ساتھ سجدہ سہو کرنا ہوگا ؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
بکر بھی امام کے ساتھ سجدہ سہو کرے گا اگر چہ سہو ہونے کے بعد شامل ہوا
چنانچہ در مختار مع شامی باب سجود السھو میں ہے ")
(والمسبوق يسجد مع إمامه مطلقا) سواء کان السهو قبل الاقتداء أو بعده (ثم يقضي مافاته) ولو سها فيه سجد ثانيا.
اور مسبوق (جس کی امام سے کوئی رکعت رہ گئی) مطلقاً اپنے امام کے ساتھ سجدہ سہو کرے گا خواہ اقتداء سے پہلے امام بھولا یا بعد۔ پھر فوت شدہ (بقیہ) نماز کی قضاء کرے اور اگر بعد والی نماز میں بھول گیا تو دوبارہ سجدہ کرے۔
اور بہار شریعت حصہ چہارم صفحہ ۷۲۰ میں ہے :
امام سے سہو ہوا اور سجدۂ سہو کیا تو مقتدی پر بھی سجدہ واجب ہے اگرچہ مقتدی سہو واقع ہونے کے بعد جماعت میں شامل ہوا اور اگر امام سے سجدہ ساقط ہوگیا تو مقتدی سے بھی ساقط پھر اگر امام سے ساقط ہونا اس کے کسی فعل کے سبب ہو تو مقتدی پر بھی نماز کا اعادہ واجب ورنہ معاف،
والله تعالیٰ اعلم
۱۹ ربیع الثانی ۱۴۴۴ ھجری
۱۵ نومبر ۲۰۲۲ عیسوی منگل
Tags:
نماز کا بیان