مسئلہ:- خالد بیمار تھا اس نے منت مانی کہ میں صحت مند ہوجاؤں گا تو الله کے لیے جانور ذبح کروں گا تو کیا خالد اس منت کے جانور کے گوشت میں سے کھا سکتا ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
اس گوشت کو خالد نہیں کھا سکتا ناہی اور کسی صاحب نصاب کو کھلا سکتا ہے کیونکہ
منت کے مصارف وہی ہیں جو زکوٰۃ کے ہیں.
جیسا کہ درمختار مع رد المحتار کتاب الزکاۃ باب المصرف جلد سوم صفحہ ۲۸۳ میں ہے : أي مصرف الزکاة والعشر، قال ابن عابدین: وہو مصرف أیضا لصدقة الفطر والکفارة والنذر وغیر ذلک من الصدقات الواجبة۔
اور اسی میں ہے:
وان وجبت بہ (النذر) فلا یأکل منہا شیئا، ولا یطعم غنیا ًسواء کان الناذر غنیا أو فقیرا؛ لأن سبیلہا التصدق، ولیس للمتصدق ذلک۔ (درمختار مع رد المحتار کتاب الاضحیۃ جلد سوم صفحہ ۴۷۳)
اور حضور صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی حنفی متوفی ۱۳۶۷ ھ تبیین الحقائق کے حوالے سے لکھتے ہیں:
قربانی اگر منت کی ہے تو اوس کا گوشت نہ خود کھاسکتا ہے نہ اغنیا کو کھلا سکتا ہے بلکہ اس کو صدقہ کر دینا واجب ہے وہ منت ماننے والا فقیر ہو یا غنی دونوں کا ایک ہی حکم ہے کہ خود نہیں کھا سکتا ہے نہ غنی کو کھلا سکتا ہے"
بہار شریعت حصہ ۱۵ صفحہ ۳۴۷)
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
۲۱ ربیع الثانی ۱۴۴۴ ھجری
۱۷ نومبر ۲۰۲۲ عیسوی جمعرات
Tags:
منت کا بیان