مسئلہ :- زید کا کہناہے کہ ہمبستری کرنے کے بعد غسل کیوں واجب ہوتا ہے جبکہ اور نجاستیں مقام مخصوص کے دھو لینے سے آدمی پاک ہوجاتاہے تو ہمبستری کرنے کے بعد غسل کرنے کے کیا ضرورت تو از روۓ شرع زید کا یہ اعتراض درست ہے یا نہیں؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
زید کا اعتراض غلط ہے کیونکہ اس کی کئی وجوہات ہیں ، جس بنا پر خروج منی کے بعد غسل کا اور پیشاب پاخانہ کے بعد صرف وضو کا حکم ہے
حضور فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی حنفی متوفی ۱۴۲۲ ھ لکھتے ہیں :
قرآن مجید میں جنب کے متعلق مبالغہ کا صیغہ آیا ہے جیسا کہ پارہ۶رکوع۶میں ہے اِنْ کُنْتُم جُنُبًا فَاطَّھَّرُوا اور اسمیں طہارت کے لیۓ حکم کو وضو کی طرح بعض اعضاء کے ساتھ خاص نہیں کیا گیا جس سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ پورے بدن کی طہارت مطلوب ہے اور اس کی عقلی وجہیں تین ہیں:
اوّل یہ کہ انزال منی کے ساتھ قضاۓ شہوت میں ایسی لذت کا حصول ہوتا ہے کہ جس سے پورا بدن متمتع ہوتاہے اس لیۓ اس نعمت کے شکریہ میں پورے بدن کو دھونے کا حکم ہوا اس سبب سے وجوب غسل کے لیۓ علٰی وجه الدفق الشہوۃ کی قید ہے کہ بغیر اس کے لذت کا حصول نہیں ہوتا اس لیۓ اس صورت میں وضو واجب ہوتا ہے نہ کہ غسل:
دوسری وجہ یہ کہ جنابت پورے بدن کی قوت سے حاصل ہوتی ہے اسی لیۓ اسکی زیادتی کا اثر پورے بدن سے ظاہر ہوتا ہے لہٰذا جنابت سے پورا بدن طاہر وباطن بقدر امکان دھونے کا حکم ہوا اور یہ باتیں پیشاب وغیرہ نہیں پائی جاتی ہیں:
تیسری وجہ ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں حاضری کے لیۓ کمال نظافت چاہیۓ اور کمال نظافت پورے بدن کے غسل ہی سے حاصل ہوگا مگر پیشاب وغیرہ جس کا وقوع کثیر ہے اس میں خداۓ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے بندوں کی آسانی کے لیۓ وضو کو غسل کے قائم مقام کردیا اور جنابت کا وقوع چونکہ کم ہے اس لیۓ اس میں پورے بدن کا دھونا لازم قرار دیا گیا
(فتاویٰ فیض الرسول جلد اوّل صفحہ ۱۸۱)
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
۲۳ ربیع الثانی ۱۴۴۴ ھجری
۱۹ نومبر ۲۰۲۲ عیسوی سنیچر
Tags:
نجاست کا بیان