مساجد کی نسبت غیر الله کی طرف کرنا کیسا ہے؟

مسٔلہ:-   مساجد کی نسبت غیرﷲکی طرف کرنا جائز ہے یا نہیں؟
بِسمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ
الجواب بعون الملک الوھاب
جائز ہے جیسا کہ مکۃ المکرمہ میں اور مدینہ منورہ میں  بہت سی مساجد ہیں جیسے مکہ شریف میں مسجد عائشہ مسجد جن وغیرہ یوں ہی مدینہ شریف میں بھی مسجد علی مسجد ابراہیم، حضور فقیہ ملت مفتی جلال الدین امجدی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : 
مساجد کی نسبت غیرﷲکی طرف کرنا بلا شبہ جائز ہے جیسا کہ تفسیر جمل جلد چہارم۱۲۴؃ میں آیت مبارکہ ان المسجدللّٰه کے تحت ہے، اضافۃ المسجدالی اللّٰه تعالیٰ اضافۃ تشریق وتکریم وقد تنسب الٰی غیرہٖ تعریفًا قالﷺصلاۃ فی مسجدی ھٰذا خیرمن الف صلاۃٍفیما سواہ الاالمسجدالحرام:
اسی لیۓ مکہ معظمہ میں مسجد عائشہ،مسجد جن،مسجد کبش،وغیرہ، اور مدینۃ المنورۃ شریف میں مسجد علی،مسجد ابی،مسجدبنی قریظہ،مسجد ابراہیم وغیرہ بے شمار مساجد غیراللّٰه کی نسبت کے ساتھ مشہور ہیں اور مسجد کے صدر دروازہ یا محراب وغیرہ کی نمایاں مقام پر مسجدِ اہلسُنَّت لکھنا بھی جائز ہے اور اگر وہابیوں دیوبندیوں یا کسی دوسرے گمراہ فرقوں کے قبضہ کرنے کا اندیشہ ہو تو اس صورت میں اس پر مسجدِ اہلسُنَّت لکھنا ضروری ہے
(فتاویٰ فیض الرسول جلد دوم، صفحہ ۳۶۳ مسجد کا بیان 
واللّٰه سبحانہٗ تعالیٰ ورسولہٗ ﷺاعلم بالصواب

۹/ربیعُ الآخر شریف ۱۴۴۴ھجری 
۵/نومبر ۲۰۲۲ بروز سنیچر
Previous Post Next Post