قرأت کو بدعت کہنا کیسا ہے؟

مسئلہ :-زید جاہل ہے جو کہتا ہے کہ قرأت بدعت ہے اور بکر دانستہ ہے جو کہتاہے قرأت بدعت ہے تو آیا شریعت ان دونوں پر کیا حکم شرع نافذ ہوگا
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
بکر پر حکم کفر لگے گا کیونکہ دانستہ طور پر فرض کو بدعت کہتا ہے اور زید بوجہ جہالت بدعت کہتا ہے   اس لیے زید کو سمجھایا جائے , 
اسی طرح ایک سوال کے جواب میں محقق جلیل حضور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : 
 بلاشبہہ اتنی تجوید جس سے تصحیح حرف ہوا ور غلط خوانی سے بچے فرض عین ہے،بزازیہ وغیرہ میں ہے:’’ اللحن حرام بلا خلاف ‘‘(لحن بلا خلاف حرام ہے)۔  جو اسے بدعت کہتا ہے  اگر جاہل ہے اسے سمجھا دیا جائے اور دانستہ کہتا ہے  تو کافر ہے فرض کو بدعت کہتا ہے (فتاوی رضویہ،جلد6،صفحہ343،رضا فاؤنڈیشن،لاھور)
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
۱۰ ربیع الثانی ۱۴۴۴ ھجری
۶ نومبر ۲۰۲۲ عیسوی یکشنبہ
Previous Post Next Post