تقلید کا تذکرہ قرآن وحدیث میں ہے یا نہیں؟

مسئلہ :- تقلید شخصی کا تذکرہ قرآن وحدیث میں ہے یا نہیں؟ 
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
جی ہاں قرآن وحدیث میں تذکرہ ہے  یعنی تقلید فرض ہے اور ائمہ اربعہ کے مذاہب کو حق مان کر ان میں سے کسی ایک کی پیروی لازم اسی کو تقلید شخصی کہتے ہیں:
جیسا کہ محقق جلیل اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
تقلید فرض قطعی ہے، قال ﷲ تعالٰی:
" فَسْـَٔلُوۡۤا اَہۡلَ الذِّکْرِ اِنۡ کُنۡتُمْ لَا تَعْلَمُوۡنَ,
تو اے لوگو! علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہیں ہے۔(ت)
القرآن الکریم (۱۶/ ۴۳)*

وقال صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم:
الاسئلوا ان لم یعلموافانما شفاء العی السؤال
اگر وہ نہیں جانتے تو پوچھتے کیوں نہیں کیونکہ جہالت کی شفاء سوال کرنا ہے۔
(سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب المجدور یتیمم آفتاب عالم پریس لاہور (۱/۴۹)
اسکی وجہ آگے تحریر فرماتے ہیں:
اگر ایك مذہب کی پابندی نہ کی جائے تو یا وقت واحد میں شیئ واحد کو حرام بھی جانے گا اور حلال بھی جیسے قراءت مقتدی شافعیہ کے یہاں واجب اور حنفیہ کے یہاں حرام اور وقت واحد میں شے کا حرام و حلال دونوں ہونا محال، یا یہ کرے گا کہ ایك وقت حلال سمجھے گا دوسرے وقت حرام، تو یہ اس آیت میں داخل ہونا ہوگا کہ " یُحِلُّوۡنَہٗ عَامًا وَّ یُحَرِّمُوۡنَہٗ عَامًا"۔(ایك سال اسے حلال ٹھہراتے ہیں اور ایك سال اسے حرام ٹھہراتے ہیں۔ت)لاجرم پابندیِ مذہب لازم، 
(فتاویٰ رضویہ مترجم جلد ۲۹  صفحہ ۳۹۱) 
والله تعالیٰ اعلم
۱۲ ربیع الثانی ۱۴۴۴ ھجری
۸ نومبر ۲۰۲۲ عیسوی منگل
Previous Post Next Post