مسئلہ :- دو پہیا گاڑی پر سجدہ کیا جس کا جُوا گھوڑے کے گردن پر ہے تو اب سجدہ ہوگا یا نہیں؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مستفسرہ میں نہ سجدہ ہوا نہ نماز ہوئی کیونکہ نماز صحیح ہونے کے لیے بوقتِ سجدہ پیشانی کا زمین پر جمنا ضروری ہے کہ پیشانی جمے رہنے کو ہی سجدہ کی حقیقت بتایا گیا ہے "
حضور صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی حنفی متوفی ۱۳۶۷ ھ عالمگیری وغیرہ کے حوالے سے فرماتے ہیں:
دو پہیا گاڑی یکّہ وغیرہ پر سجدہ کیا تو اگر اس کا جُوا (یعنی وہ لکڑی جو گاڑی یا ہَل کے بیلوں کے کندھے پر رکھی جاتی ہے) یا بَم (یعنی گھوڑا گاڑی کا بانس جس میں گھوڑا جوتا جاتا ہے) بیل اور گھوڑے پر ہے، سجدہ نہ ہوا اور زمین پر رکھا ہے، تو ہوگیا۔ بہلی کا کھٹولا (یعنی بیلوں کی چھوٹی گاڑی کی چھوٹی سی چارپائی) اگر بانوں سے بنا ہوا ہو تو اتنا سخت بنا ہو کہ سر ٹھہر جائے دبانے سے اب نہ دبے، ورنہ نہ ہوگی۔(بہار شریعت حصہ سوم صفحہ ۵۱۸ نماز پڑھنے کا طریقہ)
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
۲۴ ربیع الثانی ۱۴۴۴ ھجری
۲۰ نومبر ۲۰۲۲ عیسوی یکشنبہ
Tags:
نماز کا بیان