حرام حلال مال غفلت سے خلط ہوگیا تو ورثہ کے لیے حلال ہے یا حرام ؟ ے

مسئلہ :- زید کے پاس حرام طریقے سے مال حاصل کیا ہوا بھی ہے اور حلال طریقے سے بھی حاصل کیا ہوا غفلت کی بنا پر دونوں مال مِکس ہو گیۓ اور یہ معلوم‌نہیں کہ کونسا حلال کا ہے اور کونسا حرام کا تو زید کے گھر والوں کے لئے اب وہ مال حرام‌ہے حلال؟ 
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
فتویٰ یہ ہے کہ وہ مال زید کے گھر والوں کے حلا ہے  مگر دیانت یہ چاہتی ہے کہ اس سے بچنا چاہیے، 
حضور صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی ۱۳۶۷ھ متوفی لکھتے ہیں : 
مورث نے حرام طریقہ پر مال حاصل کیا تھا اب وارث کو ملا اگر وارث کو معلوم ہے کہ یہ مال فلاں  کا ہے تو دے دینا واجب ہے اوریہ معلوم نہ ہوکہ کس کا ہے تو مالک کی  طرف سے صدقہ کردے اور اگرمورث کامال حرام اور مال حلال خلط ہوگیا ہے۔ یہ نہیں  معلوم کہ کون حرام ہے کون حلال مثلاً اُس نے رشوت لی ہے یا سود لیا ہے اوریہ مال حرام ممتاز نہیں  ہے تو فتویٰ کا حکم یہ ہوگا کہ وارث کے لیے حلال ہے اور دیانت اس کو چاہتی ہے کہ اس سے بچنا چاہیے۔
(بہار شریعت ۱۴ حرام مال کو کیا کرے) 

والله تعالیٰ اعلم
۱۵ ربیع الثانی ۱۴۴۴ ھجری
۱۱ نومبر ۲۰۲۲ عیسوی جمعہ مبارک»
Previous Post Next Post