مسئلہ :- بکر کو ایسا مرض ہے کہ کھڑا نہیں ہوسکتا ہاں البتہ اتنی دیر کھڑا ہوسکتا ہے جتنی دیر میں الله اکبر کہہ لے یعنی تکبیر تحریمہ پھر بھی بکر نے بیٹھ کر ہی تکبیر تحریمہ کہی تو نماز کا کیا حکم ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں بکر کی نماز نہیں ہوئی کیونکہ فرض ترک ہوا کیونکہ جتنی دیر میں الله اکبر کہہ سکتا تھا اگر اتنی دیر کھڑا ہوسکتا تھا تو اس پر فرض تھا کہ کھڑے ہوکر تکبیر تحریمہ کہہ لے پھر بیٹھ جائے،
کہ قیام نماز کے ارکان میں سے ہے، پس اگر قیام پر قادر شخص فرض نماز میں قیام نہ کرے تو اس صورت میں ترک قیام کی وجہ سے نماز نہیں ہوتی، اور اس کی تلافی سجدہ سہو سے بھی ممکن نہیں، کیوں کہ سجدہ سہو ترکِ واجب کی تلافی کے لیے واجب ہوتا ہے، رکن / فرض کے ترک کی تلافی شرعًا اس سے ممکن نہیں ہوتی، لہذا نماز کا اعادہ بہر صورت ضروری ہوگا۔
فتاویٰ عالمگیری مصری جلد اول صفحہ ۱۲٦ میں ہے :
"وَفِي الْوَلْوَالِجِيَّة: الْأَصْلُ فِي هَذَا أَنَّ الْمَتْرُوكَ ثَلَاثَةُ أَنْوَاعٍ: فَرْضٌ وَ سُنَّةٌ وَ وَاجِبٌ، فَفِي الْأَوَّلِ: أَمْكَنَهُ التَّدَارُكُ بِالْقَضَاءِ يَقْضِي وَإِلَّا فَسَدَتْ صَلَاتُهُ، وَفِي الثَّانِ:ي لَاتَفْسُدُ؛ لِأَنَّ قِيَامَهَا بِأَرْكَانِهَا وَقَدْ وُجِدَتْ وَلَايُجْبَرُ بِسَجْدَتَيْ السَّهْوِ، وَفِي الثَّالِثِ: إنْ تَرَكَ سَاهِيًا يُجْبَرُ بِسَجْدَتَيْ السَّهْوِ، وَإِنْ تَرَكَ عَامِدًا لَا، كَذَا التَّتَارْخَانِيَّة. وَظَاهِرُ كَلَامِ الْجَمِّ الْغَفِيرِ أَنَّهُ لَايَجِبُ السُّجُودُ فِي الْعَمْدِ، وَ إِنَّمَا تَجِبُ الْإِعَادَةُ جَبْرًا لِنُقْصَانِهِ، كَذَا فِي الْبَحْرِ الرَّائِقِ."اھ
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
۳ جمادی الاولیٰ ۱۴۴۴ ھجری
Tags:
نماز کا بیان