مسئلہ :- کیا ہمارے مذہب اسلام میں جانوروں کے بھی کچھ حقوق ہیں جن کا کرنا ضروری ہو؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
جی ہاں جانوروں کے بھی چند حقوق ہیں اور اسے پورا کرنا لازم و ضروری ہے "
حضرتِ علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی علیہ الرحمہ اپنی کتاب جنتی زیور میں لکھتے ہیں: جانوروں کے بھی کچھ حقوق ہیں جن کا ادا کرنا ہر مسلمان پر ضروری ہے ،
جانوروں کے چند حقوق یہ ہیں'
(۱) جنجانور کا گوشت کھانا حلال ہے ان کو بھی جب کہ کھانے کے لیۓ نہ ہو بلکہ محض تفریح کے لیۓ بلا ضرورت قتل کرنا جیسا کہ بعض شکاری لوگ کھانے یا اور کوئی فائدہ اٹھانے کے لیۓ شکار نہیں کرتے بلکہ شکار کھیلتے ہیں یعنی محض کھیل کود کے طور پر جانوروں کا خون کرکے انکو ضائع کردیتے ہیں یہ شریعت میں جائز نہیں ہے
(٢) جن جانوروں کا گوشت کھانا حرام ہے جبتک وہ ایذا نہ پہونچائیں بلا ضرورت ان کو قتل کرنا منع ہے
(٣) جو پالتو جانور کام کرتے ہیں انکو گھاس چارہ اور پانی دینا فرض ہے اور انکی طاقت سے زیادہ ان سے کام لینا اور انکو بھوکا پیاسا رکھنا اور بلا ضرورت خصوصاً ان کے چہروں پر مارنا گناہ اور ناجائز ہے
(٤) پرندوں کے بچوں کو گھونسلوں سے نکال لینا یا پرندوں کو پنجروں میں بند کر دینا اور بلاضرورت ان پرندوں کے ماں باپ اور جوڑے کو دُکھ پہنچانا بہت بڑی بے رحمی اور ظلم ہے جو ہر مسلمان کے لیۓ جائز نہیں ہے
(۵) بعض لوگ کسی جاندار کو باندھ کر لٹکا دیتے ہیں اور اس پر غُلیل یا بندوق سے نشانہ بازی کی مشق کرتے ہیں یہ بھی بے درجے کی بے رحمی اور ظلم ہے جو ہر مسلمان کے لیۓ حرام ہے
(۶) جنجانوروں کو ذبح کرنا ہو یا موذی ہونے کی وجہ سے قتل کرنا ہو تو مسلمان کے لیۓ لازم ہے کہ اسکو تیز ہتھیار سے بہت جلد ذبح یا قتل کردے کسی جانور کو تڑپا تڑپا کر یا بھوکا پیاسا رکھکر مار ڈالنا یہ بھی بہت بڑی بے رحمی ہے جو ہرگز ہرگز اسلام میں جائز نہیں ہے_
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
۲۷ ربیع الثانی ۱۴۴۴ ھجری
۲۳ نومبر ۲۰۲۲ عیسوی بدھ
Tags:
متفرقات