مسئلہ :- وہ کتنے قسم کے لوگ ہیں کہ جن کے بارے میں حضور ﷺ نے سوال کرنے (یعنی بھیک مانگنے)کی اجازت عطا فرمائی ہے ؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
وہ تین قسم کے لوگ ہیں جن کو اجازت عطا کی گئی ہے مگر ان کو بھی بقدرِ ضرورت ہی مانگنے کی اجازت ہے،
جیسا کہ حدیث شریف میں ہے حضرت ابو بشر قبیلہ بن مخارق رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے: فرماتے ہیں ایک مرتبوضہ مجھ پر بہت قرضہ ہو گیا تو مَیں بارگاہِ رسالت ﷺمیں حاضر ہوا کہ کچھ مانگو آپ ﷺنے ارشاد فرمایاتمیہاں ٹھہرو ہمارے پاس صدقہ کا مالآنےوالا ہے اس میں سے تمہیں دینے کا حکمکر دیں گے پھر فرمایا اے قبیلہ تینآدمیوں کے علاوہ کسی کو مانگنا حلال نہیں ہے:
(١) ایک وہ آدمی جس پر قرضہ ہوجاۓ اسے صرف اس قدر مانگنا حلال ہے جس سے اسکا قرض ادا ہو جاۓ اس کے بعد وہ مانگنے کو ترک کردے،
(٢) دوسرا وہ جس کے مال کو کوئی حادثہ پیش آگیا مالضائع ہو گیا اسے مانگنا جائز ہے یہاں تک کہ اسے اس قدر مال مِل جاۓجس سے اسکی گذز بسر ہو سکے،
(٣) اور تیسرا وہ آدمی جسے فاقہ کشی نے آگھیرا ہو اور اسکی قوم کے تینصاحبان عقل شہادت دیدیں کہ فلاں شخص فاقہ زدہ ہے تو اس کے لیۓ اس قدر سوالکرنا جائز ہے جس سے اسکی زندگی بحال رہے فما سوا ھن المسٔلۃ یا قبیصۃ سحت تاکلھا صحبھا سحتا،
اور قبیصہ ان تین اشخاص کے علاوہ کسی اور کو مانگنا حرام ہے اور اسے کھانے والا حرام ہے کھاتا ہے:
(الترغیب والترہیب،جلد،۱،صفحہ،۳۱۸)
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
۲۸ ربیع الثانی ۱۴۴۴ ھجری
۲۴ نومبر ۲۰۲۲ عیسوی جمعرات
Tags:
متفرقات