کان چھیدوانے کی منت ماننا کیسا ہے؟

مسٔلہ:-  زید کا لڑکا عمر  جو شدید بیمار ہے تو زید کی بیوی نے اپنے بیٹے کے ٹھیک  ہو جانے پر عمر کے کان چھیدوانے کی یہ منت مانی ہے تو از روۓ شرع یہ منت درست ہے یا نہیں؟ 
بِسمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ
الجواب بعون الملک الوھاب
 زید کی بیوی کا اپنے بیٹے کے ٹھیک ہوجانے پر اَیسی منت ماننا بےوقوفی اور کم عقل اور جاہل ہونے کی دلیل ہے کیونکہ اَیسی منت کا ماننا از روۓ شرع باطل قرار پاتا ہے اور اَیسی منت کا ماننا بھی بہت بڑی جہالت ہے  خلیفۂ اعلیٰ حضرت  حضور صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی رحمتہ ﷲعلہ تحریر فرماتے ہیں بعض جاہل عورتیں لڑکوں کے ناک کان چھدوانے اور بچوں کو چوٹیاں رکھنے کی منت ہیں اور طرح طرح کی ایسی منتیں مانتے ہیں جن کا جواز کسی طرح ثابت نہیں اولاً ایسی واہیات منتوں سے بچیں اور مانی ہوں پوری نہ کریں اور شریعت کے معاملہ میں اپنے لغو خیالات کا دخل نہ دیں نہ یہ کہ ہمارے بڑے بوڑھے یوں ہی کرتے آۓ ہیں اور یہ کہ پوری نہ کریں گے تو بچہ مَر جائیگا اور بچہ مرنے والا ہوگا تو یہ ناجائز منتیں بچا نہ لیں گی منت مانا کرو تو نیک کام نماز،روزہ،خیرات،درودشریف،کلمہ شریف،قرآن‌مجید پڑھنے کی،اور فقیروں کو کھانا دینے اور کپڑا پہنانے کی وغیرہ کی منت مانو- 
(بہار شریعت،حصہ،نہم،جلد،دوم،۱۱۳؃ مکتبۃالمدینہ، دعوتِ اسلامی)
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
۶/ربیعُ الآخر شریف ۱۴۴۴ھجری
۲/نومبر ۲۰۲۲ بروز بدھ
Previous Post Next Post