کھیت دے کر یہ طے کرنا کہ سال میں دو من اناج لون گا ایسا کرنا کیساہے؟

ٔٔمسٔلہ:-    زید نے اپنا کھیت بکر کو یہ طے کرکے دیا کہ ایک سال میں صرف دو من دھان لونگا جب کہ بکر اُسی کھیت میں دو بار فصل بوتا اور کاٹتاہے تو از روۓ شرع یہ طریقہ جائز ہے یا نہیں؟
بِسمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ
الجواب بعون الملک الوھاب
 زید اور بکر کے مابین طے کیا ہوا یہ طریقہ فاسد اور حرام ہے اسی طرح فتاویٰ فیض الرسول جلد ۲ صفحہ ۴۱۵ میں فقیہ مِلَّت  مفتی جلال الدین احمد صاحب قبلہ امجدی علیہ الرحمۃ والرحمٰن فتاویٰ رضویہ شریف جلد ہشتم کے حوالےسے تحریر فرماتے ہیں:
  فتاویٰ رضویہ شریف جلد ہشتم، صفحہ،۱۶۵ میں 
اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان بریلوی رضی ﷲعنہ اسی قسم‌کے ایک سوال (جس میں ہر سال چار مَن دھان دینا طے ہوا)کا جواب لکھتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ یہ اجارہ فاسد اور عقد حرام وواجب الفسخ ہے کہ اس میں مالک زمین کے لیۓ ایک مقدار معین دھان کی شرط کی گئی اور وہ قاطع شرکت ہے کہ ممکن ہے کہ چار من‌ہی دھان پیدا ہوں یا اتنے بھی نہ ہوں اور تنویر الابصار میں ہے:
فی تنویر الابصار لمزارعۃ تصح بشرط الشرکۃ فی الخارجِ فتبطل ان شرط لاحدھما قفزان مسماۃاھ ملتقطا:
بلکہ یوں کہنا لازم‌ہے کہ مثلأ نصف یا ثلث یا ربع پیداوار پر یہ زمین تیرے اجارہ میں دی پھر اگر کچھ پیدا ہوتو حسب قرار داداس کا نصف یا ثلث یا ربع مالکِ زمین کے لیۓ ہوگا اور کچھ نہ پیدا ہو تو کچھ نہیں یہ شرط لگانا کہ کچھ بھی نہ پیدا ہو جب بھی مجھے اتنا مِلے یہ بھی مفسد اور حرام ہے
ھٰذا ما‌عندی وﷲ سبحانہٗ تعالیٰ ورسولہٗ ﷺاعلم بالصواب
۵/ربیعُ الآخر شریف ۱۴۴۴ ھجری 
۱/نومبر ۲۰۲۲ عیسوی بروز منگل
Previous Post Next Post