مسئلہ :- مغرب کی نماز میں دوسرے نمازیوں کے وضو کے انتظار میں دیر کرنا صحیح و درست ہے یا نہیں؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب:
انتظار کرنے کی ضرورت نہیں اسی طرح ایک سوال کے جواب میں حضور فقیہ ملت مفتی جلال الدین امجدی علیہ الرحمہ، لکھتے ہیں؛
جماعت کے آدمی موجود ہونے پر وقت مستحب سے زیادہ انتظار کی ضرورت نہیں بلکہ بعض دوسرے مقتدیوں کو گراں گزرے تو انتظار منع ہے اور مغرب میں تاخیر کرنے مکروہ ہے پھر جتنی تاخیر ہوگی کراہت بڑھتی جائیگی لہٰذا ایسی صورت میں جماعت کے آدمی ہونے پر دوسرے بعض نمازیوں کے لیۓ انتظار کرنا اور جماعت کو مؤخر کرنا جائز نہیں حتیٰ کہ اگر خود جماعت تاخیر سے ہونے والی ہو تو تنہا پڑھ لے اور تاخیر کی کراہت سے بچےھٰکذا فی الفتاویٰ-
(فتاویٰ فیض الرسول جلد،۱،صفحہ،۱۷۸،باب الاوقات کا بیان)
وﷲ سبحانہٗ تعالیٰ ورسولہٗ ﷺاعلم بالصواب-
۴/ربیعُ الآخر شریف ۱۴۴۴ ھجری
۳۱/اکتوبر ۲۰۲۲عیسوی بروز دوشنبہ-پیرشریف
Tags:
نماز کا بیان