بوقتِ نکاح پرورش کرنے والے کا نام لیا گیا تو نکاح کا کیا حکم ہے؟

مسئلہ :- عمر کی بیٹی ہندہ کی پرورش زید نے کی ہے اور ہندہ کا نکاح ہندہ کے عدمِ میں موجودگی میں بکر کے ساتھ کردیا گیا نکاح میں‌باپ کے نام کی جگہ پرورش کرنے والے زید کا نام لیا گیا لیکن ہندہ کی پرورش کی وجہ لوگ زید ہی کی بیٹی جانتے ہیں  تو از روۓ شرع ہندہ کا نکاح منعقد ہوگا یا نہیں؟ 
بسم الله الرحمن الرحیم 
الجواب بعون الملک الوھاب
  ہندہ کی پرورش کی وجہ سے لوگوں میں ہندہ  بنت زید‌کہی جاتی ہے اور اسطرح بولنے سے اسی ہندہ کی طرف ذہن جاتا ہے تو نکاح ہو گیا در مختار میں ہے:
غلط وکیلھا بانکاح فی اسم ابیھا بغیر حضورھا لم یصح  
فتاویٰ عالمگیری  میں ہے قالت امرأتہ عمرۃ بنت صبیح طالق وامراته عمرۃ بنت حفص ولا نیۃ لہ لانطلق امراته فان کان صبیح زوج ام امراته وکانت تنسب الیہ وھی فی حجرۃ فقال ذالک وھو یعلم نسب امراته اولا یعلم طلقت امراته-،
سیدی اعلٰی حضرت مجدد دین و ملت امام احمد رضا قادری بریلوی قدس سرہ العزیز رقمطراز ہیں؛
اگر بکر نے‌پرورش یا متبنی کیا تھا اور وہ عرف میں ہندہ بنت بکر کہی جاتی ہے اور اس کہنے سے اس کی طرف ذہن جاتا ہے تو نکاح ہوگیا-
 وﷲ سبحانہٗ تعالیٰ ورسولہٗ ﷺاعلم بالصواب-
(فتاویٰ علیمیہ،جلد،۲،صفحہ،۶۸، نکاح کا بیان)
۳/ ربیعُ الآخر شریف ۱۴۴۴ ھجری
۳۰/ اکتوبر ۲۰۲۲ عیسوی بروز اتوار
Previous Post Next Post