کفارہ ادا ہونے کے لیے نیت شرط ہےیا نہیں؟

مسئلہ:- زید کفارہ ادا کرنے کے طور پر مسکین کو مال دیا اور مال دیتے وقت کفارہ کی نیت نہ کی دینے کے بعد‌ میں نیت کی مگر  اس سے پہلے مال مسکین کے پاس سےہلاک ہو گیا تو اس صورت میں زید کا کفارہ ادا ہوگا یا نہیں؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں کفارہ ادا نہیں ہوا کیونکہ نیت سے پہلے مال ہلاک ہوگیا ، 
جیسا کہ حضور  صدر الشریعہ بدرالطریقہ حضرت العلام علامہ و مولانا محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ والرحمٰن طحطاوی شریف کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں:» 
کفارہ ادا ہونے کے لیے نیت شرط ہے بغیر نیت ادانہ ہوگا ہاں  اگروہ شے جو مسکین کو دی اور دیتے وقت نیت نہ کی  مگر وہ چیز ابھی مسکین کے پاس موجود ہے اور اب نیت کرلی تو ادا ہوگیا جیسا کہ زکوٰۃ میں فقیر کو دینے کے بعد نیت کرنے میں    یہی شرط ہے کہ ہنوز(ابھی تک ) وہ چیز فقیر کے پاس باقی ہو تو نیت کام کرے گی ورنہ نہیں  ۔  
{بہار شریعت حصہ،۹،صفحہ،۳۱۰ کفارہ کا بیان}
وﷲ سبحانہ تعالیٰ ورسولہ ﷺاعلم بالصواب
۲۱ربیع النور شریف ۱۴۴۴ ھجری
۱۸ اکتوبر ۲۰۲۲ عیسوی بروز منگل
Previous Post Next Post