امام نے کسی کو خلیفہ نہیں بنایا مقتدیوں میں سے کوئی خود ہی بن گیا تو کیا حکم ہے؟

مسئلہ  :- امام نے کسی کو خلیفہ نہیں بنایا بلکہ مقتدیوں میں سے کوئی خود ہی امام  کے مصلی پر جاکر خلیفہ بن گیا نیت امام  کرکے کھڑا ہوگیا  تو خلیفہ وجملہ مقتدیوں کی نماز کا کیا حکم ہے؟ 
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
  صورت مسئولہ میں سب کی نماز ہوگئی ، ایسا نہیں ہے کہ امام کسی کو خلیفہ نہ بنائے تو کوئی بن ہی نہیں سکتا بلکہ بغیر امام کے خلیفہ بنائے بھی ضرورت کے وقت مقتدیوں میں سے کوئی خلیفہ بن سکتا ہے اور، اس سے نماز میں کوئی فرق بھی نہیں خاتم المحققین حضرتِ علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :  ان قدم القوم واحد اوتقدم بنفسہ لعدم استخلاف الامام جاز ان قام مقام الاول قبل ان یخرج من المسجد ولوخرج منہ فسدت صلاۃ الکل دون الامام کذا فی الخانیۃ 
 ( ردالمحتار باب الاستخلاف    مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۴۴۴  اور خلیفۂ اعلیٰ حضرت  فقیہ اعظم حضور صدر الشریعہ بدرالطریقہ حضرت العلام مولانا محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ والرحمٰن تحریر فرماتے ہیں:»
امام نے کسی کو خلیفہ نہ کیا بلکہ قوم نے بنا دیا، یا خود ہی امام کی جگہ پر نیت امامت کر کے کھڑا ہوگیا تو یہ خلیفہ امام ہوگیا اور محض امام کی جگہ پر چلے جانے سے امام نہ ہوگا جب تک نیت امامت نہ کرے
(بہارشریعت،حصہ،سوم،صفحہ،۶۰۴،خلیفہ کرنے کا بیان)
وﷲسبحانہ تعالیٰ ورسولہ ﷺاعلم بالصواب
۲۳ ربیعُ النُّور شریف ۱۴۴۴ھجری
۲۰ اکتوبر ۲۰۲۲ عیسوی بروز پنجشنبہ-جمعرات
Previous Post Next Post