مسئلہ:- امام کا قعدۂ اخیرہ میں انتقال ہوجانے سے مقتدیوں کی نماز کا کیا حکم ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں مقتدیوں کی نماز باطل ہوگئی - خاتم المحققین حضرت علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں
(قولہ وموت) اقول: تظہر ثمرتہ فی الامام لو مات بعد القعدة الاخیرة بطلت صلاة المقتدین فیلزمہم استئنافہا اھ
( ردالمحتار باب ما یفسد الصلاة ومایکرہ فیہا )
اور حضور صدر الشریعہ بدرالطریقہ علامہ، امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:»
نماز میں امام کا انتقال ہوگیا، اگرچہ قعدہ اخیرہ میں تو مقتدیوں کی نماز باطل ہو گئی سرے سے پڑھنا ضروری ہے
(بہار شریعت حصہ،۳، صفحہ،۶۰۷،خلیفہ کرنے کا بیان)
وﷲ سبحانہ تعالیٰ ورسولہ ﷺاعلم بالصواب
۲۲ ربیع النُّور شریف ۱۴۴۴ ھجری
۱۸ اکتوبر ۲۰۲۲ عیسوی بروز بدھ
Tags:
نماز کا بیان