مسئلہ :-خالد نے بکر کو ۵۰۰۰ہزار روپیہ قرض دیۓ تھے بکر اپنا قرض توڑانے کے لیۓ خالد کو پیسے کے بجائے زیور دیا اور کہا اسے توڑا کر اپنا قرض لے لو توڑانے سے پہلے زیور ضائع ہو گیا اب اس صورت میں بکر کا قرض ادا ہوگا یا نہیں؟
🐼🐽الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں بکر کا قرض ادا نہ ہوگا کیوں کہ توڑانے سے پہلے ضائع ہوا ہے ہاں اگر توڑانے کے بعد ضائع ہوتا تو بکر کا قرض ادا ہوجاتا ,
جیسا کہ حضور صدر الشریعہ بدرالطریقہ علامہ ق علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیںا
Aa22A2Q قرض لیۓ تھے اس کو نوٹ یا اشرفیاAں دیں 2اقاَاَووا2؛َ2و2؛اکہ توڑا کر اپنے روپے لے لو اس کے پااس توڑانے سے پہلے ضائع ہو گیۓ تو قرضدار کے ضائع ہوے اور توڑانے کے سا2َ22 ا2312ا2312 ضااَائع 2ہ3َووۓ تو اس کی دو صورتیں ہیں اپنا قرض لیا تَھا یانہیں اگر نہیں لیا تھا جب بھی قرضدار کا نقصان ہوا اور قرض کے انمیں لینے ا2َ 2َ وَوَاقْدُرْ او اَو علیکم 2و2۲#کے بعد ضائع ہوۓ تو اسکے ہلاک ہوۓاور2 اگر نوٹ یا اشرفیاں دے کر یہ کہا کہ اپنااَ2ا2ق2َ2 َقااََ2ا2ق2َ فیصد سوسوز اوزاروں ا2س نے لے لیا تو قرض ادا ہوگیا ضائع ہوگا اس کا ہہول وایاےگ کےاساہَقَاوگا
(بہا2ارشریعت،جلد،۲،حصہ،۱۱،صفحہ،۷۶۱،قرض کا بیَََاااَا2ان)
2211وَ
والله اَس اعلم بالصوااب
۹ س1ا اسالنور شریف ۱۴۴۴ ھجری
۶ اکتوبر ۲۰۲۲ عیسوی پنجشنبہ
Tags:
قرض کا بیان