مسٔلہ:- غیر مسلم کا خون مسلم کے بدن میں چڑھانا جائز ہے یا نہیں؟
٭بسم ﷲ الرحمٰن الرحیم٭
الجواب بعون الملک الوھاب
صورتِ مسؤلہ میں غیر مسلمکاخون مسلم کے بدنمیں چڑھانا جائز ہے اس لیۓ کہ خونکا گروپ ہوتا ہے اور مریض کے جسممیں اسی گروپ کا خون چڑھانا ضروری ہوتا ہے جس گروپ کا مریض کا خون ہے اور ایسے ہی ایک سوال کے جواب میں اپنی تصنیف کردہ کتاب میں علامہ سید ریاض حسین شاہ کاظمی صدر مدرس جامعہ سیف الاسلام مظفر آباد جموں و کشمیر تحریر فرماتے ہیں:
کہ غیر مسلم کے خون کو مسلم کے بدن میں داخل کرنا جائز ہے چونکہ مریضکے جسممیں جس گروپ کا خونہوتا ہے اسی گروپ کا خون اس کے بدن میں چڑھانا ضروری ہوتا ہے اس گروپ کا خون خواہ مسلمکا ہو یا کافر کا،مرد کا ہو یا عورت کا محض مسلمانکے خون کی قیدلگانا حرجِ عظیم ہے البتہ اگر پہلے سے مسلمانکاخون اس گروپ کا ہے تو مسلمان کا خون چڑھانا بہتر ہے کیونکہ کافر یا فاسق وفاجر انسان کے خونمیں جواثراتِ خبیثہ ہیں انکے منتقل ہونے اور اخلاق پر اثر انداز ہونے کا قوی خطرہ ہے۔ اسی لیۓ صلحاء امت نےفاسق و فاجر عورت کادودھ پِلوانا پسندنہیں کیا۔ اسی بنا پر کافر فاسق فاجر انسانکے خونسے حتی المقدور اجتناب بہتر ہے
(جدید فقہی مسائل اور ان کا شرعی حل،صفحہ،۲۳۰)
وﷲ سبحانہ تعالیٰ ورسولہ ﷺاعلم بالصواب
۲۰ ربیع النُّور شریف ۱۴۴۴ ھجری
۱۷ اکتوبر ۲۰۲۲ عیسوی بروز دوشنبہ-پیرشریف
Tags:
متفرقات