مسئلہ :- خالد کے کپڑے پر ایک دن کا لڑکا پیشاب کردیا اور خالد نے اسی کپڑے کو پہن کر نماز پڑھا دی تو اسکی اور مقتدیوں کی نماز کا کیا حکم ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں کسی کی نماز نہیں ہوئی کیونکہ جب امام کی نہیں ہوئی تو کسی کی نہیں ہوئی چاہے بچہ ایک ہی دن کا ہو اس کا پیشاب ناپاک ہے،
اسی طرح ایک سوال کے جواب میں حضو فقیہ ملت مفتی جلال الدین امجدی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:
لڑکا یا لڑکی خواہ ایک روز کے ہوں یا سات سال کے ان کے پیشاب نجاست خفیفہ ہیں کہ اگر کپڑے یا بدن میں لگ جائیں تو ان کا پاک کرنا فرض ہے بغیر پاک کۓ نماز پڑھائی تو امام و مقتدی کسی کی نماز نہیں ہوگی اور قصداً پڑھائی تو گناہ گار ہوا اور اگر بہ نیت استخفاف ہے تو کفر ہوا اور اگر ایک درہم کے برابر ہے تو پاک کرنا واجب ہے بے پاک کۓ نماز پڑھائی تو مکروہِ تحریمی ہوئی یعنی ایسی نماز کو امام و مقتدی دونوں پر اعادہ واجب ہے اور قصداً پڑھائی تو گناہگار بھی ہوا اور اگر درہم سے کم ہے تو پاک کرنا سنت ہے بے پاک کۓ نماز ہوگی مگر خلاف سنت ہوئی ایسی نماز کا اعادہ بہتر ہے ھٰکذا فی بہار الشریعۃ لصدرالشریعۃ رحمۃ اللّٰہ علیہ
(فتاویٰ فیض الرسول،جلد،۱،صفحہ،۱۷۳،معذور کا
بیان)
وﷲتعالٰی ورسولہ ﷺاعلم بالصواب
۱۹ ربیع النور شریف ۱۴۴۴ ھجری
۱۶ اکتوبر ۲۰۲۲عیسوی بروز یکشنبہ-اتوار
Tags:
نماز کا بیان