مَیں نماز خداۓ تعالیٰ کی پڑھتا ہوں اس طرح کہنا درست ہے یا نہیں؟

مسئلہ :-زید کہتا ہے کہ مَیں نماز خداۓ تعالیٰ کی پڑھتا ہوں تو زید کا اس طرح  کہنا درست ہے یا نہیں؟ 
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
زید کا اس طرح کہنا بلا شبہ جائز درست ہے ، 
 کیونکہ نیت کرتے وقت زبان سے یہ الفاظ نہ کہے جائیں تو ایک قول ضعیف ونامعتمد ہے عامہ کتب میں جو تلفظ بہ نیت بلکہ اسکے استحباب کی تصریح فرمائی در مختار میں ہے
التلفظ بھا مستحب وھوالمختار وقیل سنۃ یعنی احب السلف او سنۃ علماینا
نیت زبان کے ساتھ کرنا مستحب ہے مختار قول یہی ہے بعض نے سنت کہا یعنی اسلاف نے پسند کرتے تھے یا ہمارے علماء کا طریقہ ہے
  اور اگر یہ مراد نماز کو ﷲعزوجل کی طرف اضافت منع ہے تو سخت جہل اشنع‌ہے یہ صاحب بھی ہر نماز میں التحیات للّٰہ والصلوات کہتے ہوں گے کہ سب مجرے اور سب نمازیں ﷲکی ہیں پر ظاہر ہے کہ یہاں اضافت بھی لامیہ ہے،بالجملہ اس منع کی کوئی وجہ اصلًا نہیں              

والله سبحانہ تعالیٰ ورسولہ ﷺاعلم  بالصواب
(فتاویٰ رضویہ شریف،جلد،ششم،صفحہ نمبر،۴۶،نمازکی شرطوں کا بیان)
۱۶ ربیع النور شریف ۱۴۴۴ ھجری
۱۳ اکتوبر ۲۰۲۲ عیسوی جمعرات
Previous Post Next Post