مسئلہ :- زید کہتا ہےکہ ہجڑے کےنمازہ جنازہ میں عورت کی ہی دعا پڑھی جاتی ہے مرد کی دعا نہیں اور بکر کا کہنا ہےکہ مرد کی دعا پڑھی جاتی ہے عورت کی نہیں آیا ان دونوں میں کس کا قول درست ہے ؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
مرد عورت کے دعا کی کوئی تخصیص نہیں مرد و عورت کی دونوں ایک ہی دعا ہے
جیسا کہ محقق جلیل حضور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
اگر وہ ہجڑہ مسلمان ہے تو اسکے جنازہ کی نماز فرض ہے اور میت میں مرد و عورت کی تخصیص کی کوئی ضرورت نہیں مرد و عورت دونوں کی ایک ہی دعاہے خصوصاً یہ ہجڑے جو یہاں کے ہوتے ہیں جو اپنے آپکو عورت بناتے ہیں
(فتاویٰ رضویہ شریف جدید،نہم،صفحہ،۱۷۵،باب الجنائزکابیان)
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
۱۷ ربیع النور شریف، ۱۴۴۴ ھجری
۱۴ اکتوبر ۲۰۲۲ عیسوی جمعۃ المبارک
Tags:
جنازہ کا بیان