مسئلہ:- کسی کافر کو مہاتما کہنا کیسا ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
کافر کو مہاتما کہنے کے متعلق اختلاف ہے یعنی حرام ہے اور بحکم فقہا کرام کفر ہے،
جیسا کہ محقق جلیل حضور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ لکھتے ہیں :
گاندھی خواہ کسی مشرک یا کافر کو مہاتما کہنا حرام اور سخت حرہے
مہاتما کے معنٰی ہیں روح اعظم یہ وصف سیدنا جبریل علیہ السلام کا ہے مخالفان دین کی ایسی تعریف ﷲعزوجل اور رسول ﷺکو ایذا دیناہے حدیث شریف میں ہے کہ رسول ﷲﷺ فرماتے ہیں:
اذا مدح الفاسق غضب الرب واھتزا لذالک العرش روبہ ابو یعلیٰ فی مسندہ واالبھیقی فی شعیب الایمان عن انس وابن عدی فی الکامل ابی ھریرۃ رضی ﷲ عنہا
جب فاسق کی مدح کی جاتی ہے رب عزوجل غضب فرماتا ہے اور عرش الٰہی ہے جاتا ہے ابو یعلیٰ نے اپنی مسندمیں اور بہیقی نے شعیب الایمان میں حضرت سے اس کو روایت کیا اور ابن عدی نے الکامل میں حضرت ابو ہریرہ رضی ﷲ عنہما سے روایت کیا:
جب فاسق کی مدح پر ﷲ رب العزت اپنی غضب فرماتا ہے تو مشرک کی مدح پر اور ایسی عظیم مدح پر کیا حال ہوگا
(فتاویٰ رضویہ شریف جلد،۲۱،صفحہ،۲۵۴، باب الاعتقادات و سیر)
نیز امام اہلسنت دوسری جگہ لکھتے ہیں : مشرک کو مہاتما کہنا حرام ہے بلکہ بحکم فقہا کرام کفر ہے
(فتاویٰ رضویہ شریف جلد،۱۵ ،صفحہ،۲۶۸
وﷲ سبحانہٗ تعالیٰ ورسولہٗ ﷺاعلم بالصواب
۲/ربیعُ الآخر شریف ۱۴۴۴ھجری
۲۹/ اکتوبر ۲۰۲۲ عیسوی بروز سنیچر
Tags:
عقائد کا بیان