مسلمان عورت سادھو کی طرح چوٹی باندھے تو اس کی نماز جنازہ کا کیا حکم ہے؟

مسئلہ :- مسلمان عورت کو سادھو کی مثل چوٹی باندھنا کیسا ہے  اور اسکی نماز جنازہ کا کیا حکم ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
سادھو کی طرح چوٹی باندھنا منع ہے لیکن نماز جنازہ پڑھی جائے گی 
اسی طرح ایک سوال کے جواب میں مفتی عبد المنان اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں،
سادھو کی مشابہت مسلمان مردوں کے لیۓ منع ہے تو عورتوں کے لئے بدرجۂ اولٰی منع ہوگی،
حدیث شریف میں ہے من تشبه بقومٍ فھو منہم (مسند امام احمد:۲/ ۵۰) اس کو چاہیے کہ چٹا کٹواکر دوبارہ بال نکلیں تو اسکو مسلمان عورتوں کی طرح جھاڑےاور تیل لگا کر چٹا نہ ہونےدے 
البتہ یہ خیال بالکل غلط اور خلاف شرع ہے ایسی عورت کی نماز جنازہ نہیں،اس حالت میں اسکا انتقال ہو جائے تب بھی اس کی نماز جنازہ پڑھی جاۓ گی اور جان بوجھ کر بے نماز پڑھے دفن کردیا تو جتنےلوگوں کو علم ہوا اور نماز نہ پڑھے تو سب لوگ گناہ گار ہونگے 
{فتاویٰ بحر العلوم،جلد،۲،صفحہ،۵۵،کتاب الجنائز کا بیان}
وﷲ تعالیٰ سبحانہ ورسولہ ﷺاعلم بالصواب
۲۵/ ربیعُ النُّور شریف ۱۴۴۴ھجری 
۲۲/اکتوبر ۲۰۲۲عیسوی بروز شنبہ-سنیچر
Previous Post Next Post