مسئلہ :- زید نے بعدِ پیشاب ڈھیلا لیا اور استنجا کرنا بھول گیا اور پیشاب روپے بھر سے زیادہ جگہ میں پھیل گیا دوران نماز یاد آیا کہ استنجا کرنا بھول گیا تھا اب زید نماز مکمل کرے یا نماز توڑ کر استنجا کرے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
زید کے لیے حکم ہے کہ نماز توڑ کر استنجا کرے
جیسا کہ حضور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
اگر بیشاب روپے بھر سے زیادہ جگہ میں نہ پھیلا تھا تو صرف ڈھیلا طہارت کے لیۓ کافی ہے نماز ہوگئی اور اگر روپے بھر سے زیادہ جگہ میں پھیل گیا تھا تو ڈھیلے سے طہارت نہیں ہو سکتی پانی سے دھونا فرض ہے اگر نماز میں یاد آۓ فوراََ جدا ہو جائے اور استنجا کرے اور مستحب یہ ہے کہ اُس کے بعد وضو بھی پھر کرے اور نماز پھر پڑھے اور اگر نماز کے بعد یاد آیا تو اب استنجا کرکے دوبارہ نماز پڑھے
فتاویٰ رضویہ شریف قدیم،جلد،دوم،صفحہ نمبر،۱۵۴،کتابالطہارۃ،باب الاستنجا
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
۴ ربیع النور شریف ۱۴۴۴ ھجری
۱ اکتوبر ۲۰۲۲ عیسوی شنبہ
Tags:
نماز کا بیان