مسئلہ:- زید قبلہ کی طرف پشت کرکے لیٹا ہوا سو رہا تھا بکر نے زید کے منھ کے سامنے نماز پڑھی تو نماز کا کیا حکم ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مستفسرہ میں نماز مکروہ تحریمی ہوئی،
خاتم المحققین علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ۔
صلوتہ الی وجہ انسان ففی صحیح البخاری کرہ عثمان رضی اللہ عنہ ان یستقبل الرجل وھو یصلی ، وعن علی ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم رأی رجلا یصلی الی رجل فأمرہ أن یعید الصلوۃ ویکون الأمر باالاعادۃ لأزالۃ الکراھۃ لأنہ الحکم فی کل صلوۃ ادیت مع الکراھۃ ولیس للفساد والظاھر أنھا کراھۃ تحریم "اھ
(رد المحتار جلد دوم کتاب الصلوۃ باب ما یفسد الصلوۃ وما یکرہ فیھا مطلب اذا تردد الحکم بین سنۃ وبدعۃ صفحہ ۴۹۶ /۴۹۷)
ترجمہ ۔
""کسی شخص کے چہرہ کے سامنے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کسی آدمی کی طرف چہرہ کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے جبکہ وہ نماز ادا کرتا ہو، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ کسی شخص کے چہرہ کے سامنے نماز پڑھ رہا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسکی نماز کے اعادہ کا حکم ارشاد فرمایا ، اور یہ نماز کے اعادہ کا حکم کراہت دور کرنے کے لئے تھا کیونکہ ہر وہ نماز جس کو کراہت کے ساتھ ادا کی جائے اسکا یہی حکم ہے لیکن اس نماز کے فساد کا حکم نہیں ہے ، اور ظاہر میں اس مکروہ سے مراد مکروہ تحریمی ہے ""
اور حضور صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی تحریر فرماتے ہیں ۔
کسی شخص کے مونھ کے سامنے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے یوہیں دوسرے شخص کو مصلی کی طرف مونھ کرنا بھی ناجائز و گناہ ہے یعنی اگر مصلی کی جانب سے ہو تو کراہت مصلی پر ہے ورنہ اس پر-
(بہار شریعت جلد اول حصہ سوم مکروہات کا بیان صفحہ ۶۲۶ ۔مطبوعہ المکتبۃ المدینہ
والله ور سولہ اعلم بالصواب
۲۴ صفر المظفر ۱۴۴۴ ھجری
۲۲ ستمبر ۲۰۲۲ عیسوی پنجشنبہ
Tags:
نماز کا بیان