نمازی کے آگے سے کتا یا عورت گزر جائے تو نماز کا کیا حکم ہے؟

مسئلہ :-نمازی کے آگے سے کتا گزر جائے تو ایسی صورت میں نماز کا کیا حکم ہے؟ 
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
 نمازی کے آگے سے گزرنے سے از روئے شرع نماز ہوجاتی ہے ،کیونکہ نمازی کے آگے سے گزرنا مفسدات نماز میں سے نہیں ہے،
تنویر الابصار ودر المختار میں ہے ۔
ولا یفسدھا مرور مار فی الصحراء أو فی مسجد کبیر بموضع سجودہ فی الأصح أو مرورہ بین یدیہ الی حائط القبلۃ فی بیت و مسجد صغیر مطلقا ولو امرأۃ أوکلبا
تنویر الابصار ودر المختار جلد دوم کتاب الصلوۃ باب ما یفسد الصلوۃ وما یکرہ فیھا صفحہ ٤۷۹ / ٤۸۰ 
ترجمہ ۔"اصح قول کے مطابق جنگل یا بڑی مسجد میں سجدہ کی جگہ سے گزرنا نماز کو فاسد نہیں کرتا ہے، یا کسی چھوٹے کمرہ یا چھوٹی مسجد میں قبلہ کی دیوار کی جانب سے گزرنا بھی مطلقا نماز کو فاسد نہیں کرتا ہے خواہ گزرنے والی عورت ہو یا کتا ہو، 
 اور حضور صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی تحریر فرماتے ہیں ۔
نمازی کے اگے سے بلکہ موضع سجود سے کسی کا گزرنا نماز کو فاسد نہیں کرتا، خواہ گزرنے والا مرد ہو یا عورت، کتا ہو، یا گدھا
( بہار  شریعت جلد اول حصہ سوم مفسدات نماز کا بیان  صفحہ ۶۱۴ مطبوعہ المکتبہ المدینہ ) 

البتہ گزرنے والے کے لئے حدیث شریف  میں سخت وعیدیں آئی ہیں
اللہ تعالی کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، 
*قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ، أَرْسَلَهُ إِلَى أَبِي جُهَيْمٍ، يَسْأَلُهُ مَاذَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَارِّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي؟ قَالَ أَبُو جُهَيْمٍ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ، لَكَانَ أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ خَيْرًا لَهُ، مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ» قَالَ أَبُو النَّضْرِ: لَا أَدْرِي قَالَ: أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ شَهْرًا أَوْ سَنَةً
(صحیح مسلم کتاب الصلوۃ باب منع المار بین یدی المصلی رقم الحدیث ۵۰۷) 
ترجمہ ۔
امام مالک نے ابو نضر سے اور انہوں نے بسر بن سعید سے روایت کی کہ زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے انہیں ابو جہیم رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیجا تاکہ ان سے پوچھیں کہ انہوں نے نمازی کے آگے سے گزرنے والے کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے کیا سنا تھا ؟ ابو جہیم رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والا جان لے کہ اس پر کس قدر ( گناہ ) ہے تو اسے چالیس ( سال ) تک کھڑے رہنا ، اس کے آگے گزرنے سے بہتر ( معلوم ) ہو ۔
ابو نضر نے کہا : مجھے معلوم نہیں ، انہوں نے چالیس دن کہا یا ماہ یا سال ۔
ابن ماجہ روایت کرتے ہیں 
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‌‌‌‌‌‏قَالَ:‌‌‌‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‌‌‌‏ لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُكُمْ مَا لَهُ فِي أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْ أَخِيهِ مُعْتَرِضًا فِي الصَّلَاةِ، ‌‌‌‌‌‏كَانَ لَأَنْ يُقِيمَ مِائَةَ عَامٍ خَيْرٌ لَهُ مِنَ الْخَطْوَةِ الَّتِي خَطَاهَا
(سنن ابن ماجہ باب المرور بین یدی المصلی رقم الحدیث ۹۴۶) 
ترجمہ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم میں سے کوئی اس گناہ کو جان لے جو اپنے بھائی کے آگے سے نماز کی حالت آڑے میں گزرنے سے ہے تو وہ ایک قدم اٹھانے سے سو سال کھڑے رہنا بہتر سمجھے، 
واللہ ور سولہ اعلم بالصواب
۲۳صفر المظفر ۱۴۴۴ ھجری
۲۱ ستمبر ۲۰۲۲ عیسوی چہار شنبہ
Previous Post Next Post