امام قعدہ اخیرہ بھول کر کھڑا ہونے لگا مقتدی نے لقمہ دیا تو نماز کا کیا حکم ہے؟

مسئلہ :-امام قعدہ اخیرہ بھول  اتنا اٹھا کہ بیٹھنے کے قریب ہی  تھا جب تک مقتدی نے لقمہ دیا امام نے لقمہ لیا مگر 
  امام نے سجدہ سہو نہیں کیا تو کیا حکم ہے؟ 
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
 سجدۂ سہو  کی حاجت نہیں تھی لہذا نماز ہوگئی 
اگر امام فرض نماز کےقعدہ آخیرہ میں بیٹھنے کے بجاۓ کھڑا ہونے لگا اور اتنا اٹھا کہ بیٹھنے کےقریب  تھا کہ مقتدی نے لقمہ دیا اور لقمہ لے لیا اور بیٹھ گیا تو سجدہ سہو نہیں ۔ 
جیسا کہ 
فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی حنفی متوفی ١٤٢٢ھ علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :
اگر (امام) بیٹھنے کے قریب تھا یعنی ابھی جسم کے نیچے کا آدھا حصہ سیدھا نہ ہوا تھا کہ لقمہ دینے پر بیٹھ گیا تو سجدہ سہوواجب نہیں  نماز پوری ہوگئی ۔۔۔ ردالمحتار جلد اول ص ٤۹۹ میں ہے: اذ عاد قبل ان یستقیم قائما وکان الی القعود اقرب فانہ  لا سجدو علیہ فی الاصح وعلیہ الاکثر " اھ 
(فتاویٰ فیض الرسول جلد اول صفحہ ۳۸۴ سجدۂ سہو کا بیان) 
والله تعالیٰ اعلم بالصواب 
۷ صفر المظفر ۱۴۴۴ ھجری
۵ ستمبر ۲۰۲۲ عیسوی دوشنبہ
Previous Post Next Post