کیا صرف خلوتِ صحیحہ سے حلالہ ہوجائےگا؟

مسئلہ:- کیا صرف خلوتِ صحیحہ سے حلالہ ہوجائے گا؟ 
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
نہیں ہوگا  کیونکہ حلالہ میں شوہر ثانی کا وطی کرنا  ضروری ہے بغیر وطی ہرگز ہرگز حلالہ نہیں ہوگا یعنی فقط خلوت صحیحہ سے حلالہ ثابت نہیں ہوگا 
جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے"
فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ ، 
(القرآن ۲/۲۳۰) 
اور علامہ قاضی بیضاوی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں : اتفق الجمھور علی انہ لابد من الاصابة (ای الوطی) لما روی ان امراة  رفاعة قالت الی قولہ علیہ السلام لا حتی تذوقی عسیلة ویذوق عسیلتک " اھ 
(تفسیر بیضاوی) 
اور فتاویٰ عالمگیری میں ہے:  
   ان کان الطلاق ثلاثا فی الحرة لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا ویدخل بھا ثم یطلقھا او یموت عنھا کذا فی الھدایة " اھ  فتاویٰ عالمگیری جلد اول ص ٤۷۳ ، 
مذکورہ بالا حوالاجات سے یہ بات اظہر من الشمس  ہے کہ فقط خلوت صحیحہ سے حلالہ ثابت نہ ہوگا "حلالہ میں شوہر ثانی کا وطی  کرنا لازم و ضروری ہے اگر بغیر وطی طلاق دے دیا تو حلالہ درست نہ ہوگا اور وہ عورت شوہر اول کے لئے ہرگز حلال نہ ہوگی، 
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
۶ صفر المظفر ۱۴۴۴ ھجری
۴ ستمبر ۲۰۲۲ عیسوی یکشنبہ
Previous Post Next Post