مسئلہ :- غیر مسلم ایم ایل اے نیتا وغیرہ کا پیسہ جو سرکاری فنڈ سے آتا ہے اگر وہ دے تو مسجد میں لگانا کیسا ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
غیر مسلم نیتا ایم ایل اے یا ایم پی وغیرہ نے اگر سرکاری فنڈ کا پیسہ مسجد کے لئے دیا ہے تو لگانا جائز ہے جب کہ کسی مصلحت شرعیہ کے خلاف نہ ہو جیسا کہ فتاوی رضویہ میں ہے "خزانہ والی ملک کی ذاتی ملک نہیں ہوتا تو اس کے لینے میں کچھ حرج نہیں جبکہ کسی مصلحت شرعیہ کے خلاف نہ ہو ( ج ۱۶ ص ۴۶۸)
اور گر اپنی ذاتی ملک سے بغیر مانگے دیتا ہے تو مسلمان اسے لیکر مالک ہوجائے اور پھر اپنی جانب سے مسجد میں دیدے تو لینا اور مسجد میں لگانا جائز ہے بشرطیکہ مسجد میں اسکی کچھ مداخلت نہ رہے اور نہ مسلمانو پر احسان اسی طرح اس کا بھی اندیشہ نہ ہو کہ مندر یا رام لیلا یا گنپتی میں ہمیں دینا پڑےگا یا اس غیر مسلم کی تعظیم کرنی پڑے گی ورنہ لینا جائز نہیں
ایسا ہی فتاوی فقیہ ملت ج ۲ص ۱۴۶ میں ہے)
والله تعالیٰ اعلم
۱۵ صفر المظفر ۱٤٤٤ھجری
۱۳ ستمبر ۲۰۲۲ عیسوی سہ شنبہ
Tags:
مسجد کا بیان