مسئلہ؛- قرآن مجید فرقان حمید کے اندر جو آیت سجدہ ہیں اس کے واجب ہونے کے کتنے اسباب ہیں؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
تین اسباب ہیں اول صریح امرسجدہ ، کہ اس وقت سجدہ کاحکم دیاگیاہے
دوم استنکاف کفار کاتضمن ، تاکہ سجدہ سے ان کی مخالفت ہو سوم امتثال انبیاء علیہم السلام کہ سجدہ سےان کی پیروی ہوجائے یہ تینوں باتیں چونکہ واجب ہیں لہذا جب اہل صلوة لوگ انہیں پڑھیں یاسنیں تو وجوباً سجدہ کریں،
حضرت علامہ شرنبلالی علیہ الرحمہ فرماتےہیں
وھو ای سجودالتلاوة واجب لانہ اما امر صریح بہ او تضمن استنکاف الکفار عنہ او امتثال الانبیاء وکل منہاواجب " اھ
مراقی الفلاح صفحہ ١٨٣
کہ سجودتلاوت واجب ہے کہ یا سجدہ کا صریح حکم ہے یا کفار کےاعراض کو متضمن ہے یا انبیائےکرام علیہم السلام کی پیروی ہے اوریہ تینوں چیزیں واجب ہیں ،
اور ضرت علامہ سیداحمدطحطاوی علیہ الرحمہ فرماتےہیں
لان آیات السجود علی ثلثۃ اقسام قسم فیہ الامرالصریح ، وقسم تضمن فیہ استنکاف الکفرة حیث امروا بہ ، وقسم فیہ حکایۃ امتثال الانبیاء بہ وکل من الامتثال والاقتداء ومخالفۃ الکفرة واجب الا ان یدل دلیل علی عدم لزومہ لکن دلالتہافیہ ظنیۃ فکان الثابت الوجوب لاالفرض "اھ
حاشیۃالطحطاوی علی المراقی الفلاح صفحہ ۴۷۹
کہ آیات سجود تین قسم پرہیں ، وہ آیات جن میں سجدہ کاصریح حکم ہے ، اور وہ آیات جو اعراض کفار کو متضمن ہےجب کہ انہیں حکم دیاگیا اور وہ آیات جن میں انبیائےکرام علیہم السلام کےنقش قدم پرچلناہے ، اور امتثال و اقتدا و مخالفت کفار تینوں واجب ہیں مگرجبکہ عدم لزوم پرکوئی دلیل موجودہو ، اوریہاں لزوم پر دلیل چونکہ ظنی ہے لہذا واجب ہے فرض نہیں -
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
۲۹ صفر المظفر ۱۴۴۴ ھجری
۲۷ ستمبر ۲۰۲۲ عیسوی سہ شنبہ
Tags:
نماز کا بیان