حاملہ عورت کا شوہر انتقال ہوگیا بچہ پیدا ہونے کے کتنے دن بعد دوسرا نکاح کرسکتی ہے؟

مسئلہ :- عورت حاملہ تھی شوہر کا انتقال ہوگیا دو گھنٹے کے بعد بچہ پیدا ہوا پھر عورت نے ایک ماہ کے بعد دوسری شادی کر لی تو کیا حکم ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
حاملہ عورت کی عدت وضع حمل ہے لہذا وضع حمل کے  بعد مطلقاً نکاح جائز ہے یعنی وضع حمل کے بعد چاہے جب نکاح کرسکتی ہے کیونکہ عدت ختم ہوگئی
۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
 وَأُوْلَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ 
  اور حمل والیوں کی میعاد  ( عدت) یہ ہے کہ وہ اپنا حمل جَن لیں
(القرآن ۴/۶۵) 
درج بالا آیتِ مبارکہ کی روشنی میں واضح ہوتا ہے کہ حاملہ کی عدت وضع حمل ہے۔  اور نکاح عدت کے اندر حرام ہے عدت کے بعد نہیں ، 
کیونکہ جو عورت حاملہ نہ ہو اور اس کا شوہر انتقال کر جائے تو اس، کی عدت چارہ ماہ دس دن ہے  , 
جیسا کہ علامہ علاء الدين الکاساني حنفی متوفی ۵۸۷ علیہ الرحمہ لکھتے ہیں؛ 
عدة الحرة فی الوفة اربعة اشهر و عشرة ايام سواء کانت مدخولاً بهاء او لا مسلمة او کتابية "اھ 
(بدائع الصنائع، جلد ۳ صفحہ ۹۲ دارالکتاب العربي، بيروت)
(اگر حاملہ نہ ہو تو) آزاد بیوہ عورت کی عدت چار ماہ دس دن ہے کہ وہ مدخول بہا ہو یا نہ ہو مسلمان ہو یا کتابیہ ہو , 
والله تعالیٰ اعلم بالصواب 
۹ صفر المظفر ۱۴۴۴ ھجری 
۷ ستمبر ۲۰۲۲ عیسوی
Previous Post Next Post