مسئلہ :- ولد الزنا کا نفقہ کس کے ذمہ واجب ہوتا ہے؟
ماں پر واجب ہے ،
کیونکہ ولد الزنا کا کوئی باپ نہیں، حدیث شریف میں ہے:
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم للعاھر الحجر۔
تر جمہ:
رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: زانی کے لیے محرومی ہے۔
(صحیح مسلم،باب الولد للفراش۔۔۔الخ،1/ 470 )
ہاں اگر ماں نہ ہو یا استطاعت نہ رکھتی ہو تو ماں کے توسط سے جو لوگ اس کے وارث ہوں گے ان پر اس کا نفقہ لازم ہوگا، زانی پر واجب نہیں ہے ؛ کیونکہ اس سے نسب ثابت نہیں ہوتا نیز وہ وارث بھی نہیں ہوتا، جب کہ ماں اور ان کے واسطے سے ان کے دیگر رشتے دار وارث ہوتے ہیں ، اور نفقہ بہت سی صورتوں میں میراث کے تابع ہوتا ہے،
*درمختار میں ہے:*
قالوا فی حرمة بنتہ من الزنا إن الشرع قطع النسبة إلی الزانی لما فیہا من إشاعة الفاحشة فلم یثبت النفقة والإرث لذلک،
فقہائے کرام نے زنا سے پیدا ہونے والی بیٹی سے نکاح کی حرام ہونے بارے میں کہا: شریعت اسلامیہ نے زانی سے نسب کو منقطع قرار دیا ہے کہ اس میں بے حیائی کا پھیلانا ہے،لہذا اس لڑکی کا نقفہ اور وراثت اس زانی کے لئے ثابت نہیں ہوگا۔
(الدر المختار مع رد المحتار، 4 371)
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
۱۱ صفر المظفر ۱۴۴۴ ھجری
۹ ستمبر ۲۰۲۲ عیسوی جمعہ مبارک
Tags:
نفقہ کا بیان