مسئلہ :- زید نے انجانے میں اپنی عورت کے خالہ سے نکاح کر لیا، بعد میں معلوم ہوا، تو تفریق کردی گئی تو ایسی صورت میں زید پر کس کس کا نفقہ واجب ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں زید پر صرف عورت کا نفقہ واجب ہے عورت کے خالہ کا نہیں اگر چہ خالہ پر عدت واجب ہے ، جیسا کہ فتاویٰ عالمگیری جلد اول صفحہ ۵۷۰ میں ہے : ولو تجوز أخت امرأۃ أو عمتھا أو خالتھا ولم یعلم بذالک حین دخل بھا وفرق بینھما ووجب علیہ أن یعتزل عنھا مدۃ عدت اختھا فلامرأتہ النفقة ولا نفقة لا اختھا وان وجبت علیھا العدۃ کذا فی البدائع " اھ
اور بہار شریعت حصہ ہشتم صفحہ ۲٦۳ میں ہے : انجانے میں عورت کی بہن یا پھوپھی یا خالہ سے نکاح کیا بعد کو معلوم ہوا اور تفریق ہوئی تو جب تک اس کی عدت پوری نہ ہوگی عورت سے جماع نہیں کرسکتا مگر عورت کانفقہ واجب ہے اور اُس کی بہن، پھوپی، خالہ کا نہیں اگرچہ ان عورتوں پر عدت واجب ہے۔
والله تعالیٰ اعلم
۱۲ صفر المظفر ۱۴۴۴ ھجری
۱۰ ستمبر ۲۰۲۲ عیسوی شنبہ
Tags:
نفقہ کا بیان