کیافرماتےہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل میں کہ
بینا کی موجودگی میں نابینا کی امامت کیسی ہے؟
اس حال میں کہ دیگرفضل وکمال میں دونوں برابر ہے
جواب اگرحوالہ سےمزین ہوتو مزیدکرم فرمائ ہوگی
(سائل توقیرنظامی)
وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاتہ
الجواب :صورت مسئولہ میں نابینا کی امامت مکروہ تنزیہی ہے کیونکہ جب اس کے مقابل دوسرا شخص موجود ہے کہ وہ اور نابینا دونوں فضل وکمال میں برابر ہیں تو زیادہ مستحق وہی ہے جو شخص بینا ہے ، ہاں اگر نابینا شخص کے علاوہ کوئی اور لائق امامت نہ ہو یا اس سے علم میں زیادہ نہ ہو تو نابینا کے پیچھے بلا کراہت نماز ہوجائے گی
ایسا ہی فتاویٰ امجدیہ جلد اول صفحہ ۱۰۷ میں ہے
اور فتاویٰ بحر العلوم جلد اول صفحہ ۳۷۳ میں ہے
اور فتاویٰ رضویہ مترجم جلد ششم ٤۱٦ میں ہے )
درمختار مع شامی میں ہے :
و يكره تنزيها امامة اعمى الا ان يكون اعلم القوم "اھ
(جلد دوم صفحہ ۲۹۸)
واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ
محمد معصوم رضا نوریؔ عفی عنہ
۱۷ ذی الحجہ ۱۴۴۳ ھجری
بروز یکشنبہ
۱۷ جولائی ۲۰۲۲ عیسوی