مسئلہ :- زید نے اپنی بیوی ہندہ کو ایک طلاق دیا پھر ایک ماہ گزر جانے کے بعد ایک طلاق دیا تو کونسی طلاق واقع ہوئی؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں زید کی بیوی ہندہ پر دو طلاقیں رجعی واقع ہوگئیں اب اگر زید ہندہ کو اپنے نکاح میں رکھنا چاہتا ہے تو عدت کے اندر رجعت بھی کرسکتا ہے خواہ ہندہ راضی ہو یا نہ ہو
فتاوی عالمگیری جلد اول صفحہ ٤۷۰ میں ہے کہ
" اذا طلق الرجل امرأتہ تطلیقۃ رجعیۃ أو تطلیقتین فلہ أن یراجعھا فی عدتھا رضیت المرأۃ بذالک أو لم ترض ھکذا فی الھدایۃ "اھ
یعنی جب مرد نے اپنی عورت کو ایک یا دو طلاق رجعی دی تو عدت کے اندر عورت سے رجعت کرسکتا ہے خواہ وہ راضی ہو یا نہ ہو اسی طرح ہدایہ میں ہے لہذا اگر زید چاہے تو اپنی بیوی ہندہ سے قبل انقضاء عدت رجعت کرلے نکاح کی ضرورت نہیں اور رجعت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ مرد دو گواہوں کے سامنے کہے کہ میں نے اپنی بیوی سے رجعت کرلی اور عورت کو خبر دے یا خود عورت سے کہے کہ میں نے تجھ رجعت کرلی اور اگر عدت ختم ہوگئی ہو تو اب زید کو ہندہ کی مرضی سے نئے مہر کے ساتھ نیا نکاح کرنا پڑے گا حلالہ کی ضرورت نہیں -
ایساہی فتاوی فیض الرسول جلد دوم صفحہ ۲۳۷ میں ہے،
تنبیہ:- اب زید کو یاد رہے کہ رجعت کرنے کے بعد اب وہ صرف ایک طلاق کا مالک ہے اب جب کبھی بھی ایک طلاق دیگا تو طلاق مغلظہ واقع ہوجائے گی اور بغیر حلالہ اسکے نکاح میں نہ آسکے گی ،
والله تعالیٰ اعلم
۲۶ محرم الحرام ۱۴۴۴ ھجری
۲۵ اگست ۲۰۲۲ عیسوی پنجشنبہ
Tags:
طلاق کا بیان